اسلام آباد : پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعظم کی مشروط مذاکراتی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشکش دوغلے پن اور منافقت کی عکاس ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ عوامی مینڈیٹ چوری ہونے کے بعد پارٹی مسلط حکومت سے کسی بھی صورت مذاکرات نہیں کرے گی۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے رکھا ہے، اور اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی قیادت سے بات کرنی چاہیے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سے معافی کا مطالبہ سیاسی گھبراہٹ اور فکری دیوالیہ پن کی نشانی ہے، اور من گھڑت بیانیے پر معافی مانگنا جمہوری رویہ نہیں بلکہ آمریت کی علامت ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی چیئرمین کو تنہائی میں غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے اور عدالتی احکامات کے باوجود ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق فارم 47 کے تحت بننے والی حکومت کے وزرا توہینِ عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں، جبکہ عدلیہ اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم کی پیشکش قبول کرلی، پی ٹی آئی کاانکار
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات تیزی سے چلائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد وزرا عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور پی ٹی آئی کی آئینی جدوجہد کو ریاست دشمن قرار دینا ایک خطرناک سازش ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنا ریاستی کمزوری کی علامت ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی ضمیر کے قیدی ہیں اور کسی جرم کے بجائے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے قید میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپی ٹی آئی کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کر دی
ترجمان نے زور دیا کہ جبر، قید اور دھمکیوں کے ذریعے عوامی حمایت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، اور حکومت پارلیمان کو غیر مؤثر، عدلیہ کو دباؤ میں، اور میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔




