صائمہ پروین

رنگ روڈ، بائی پاس: برنالہ شہر کی بقاء اور مستقبل کیلئے ناگزیر ضرورت

تحریر: صائمہ پروین

برنالہ شہر آج جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، ان میں سب سے نمایاں اور فوری مسئلہ ٹریفک کا شدید دباؤ، شہری بدنظمی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ شہر کے عین وسط سے گزرنے والی ہیوی ٹریفک نہ صرف عوام کیلئے اذیت کا باعث بن چکی ہے بلکہ برنالہ کی تجارتی، تعلیمی اور سماجی زندگی کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

برنالہ ایک ابھرتا ہوا شہری مرکز ہے جو بھمبر، کوٹلہ، گجرات، سیالکوٹ اور ملحقہ علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ روزانہ سینکڑوں مال بردار گاڑیاں، بسیں اور دیگر ٹرانسپورٹ شہر کے اندر سے گزرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آئے روز ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے، طلبہ، مریض اور ملازمین شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ شہر کی سڑکیں وقت سے پہلے تباہ ہو رہی ہیں۔

برنالہ میں رنگ روڈ / بائی پاس اس لیے بھی ناگزیر ہو چکا ہے کہ رنگ روڈ یا بائی پاس کسی بھی شہر کی ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ ہیوی ٹریفک کو شہر سے باہر منتقل کرتا ہے، شہری آبادی کو شور، آلودگی اور حادثات کے خطرات سے محفوظ بناتا ہے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے اور مستقبل کی شہری توسیع کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نادرا حکام کی شہریوں کو مقررہ مدت سے قبل شناختی کارڈ لینے کی ہدایت

برنالہ کے لیے رنگ روڈ محض ایک سڑک نہیں بلکہ شہر کو سانس لینے کا موقع ہے۔ اگر آج اس منصوبے پر فیصلہ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں حالات اس حد تک بگڑ سکتے ہیں کہ بعد ازاں ان کا حل ممکن نہ رہے۔

یہ مسئلہ متعدد بار اجاگر کیا جا چکا ہے۔ حلقہ برنالہ کے موجودہ ایم ایل اے جناب کرنل وقار احمد نور صاحب سے بھی مقامی اکابرین اس حوالے سے تقاضا کر چکے ہیں، مگر تاحال اس جانب کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

چونکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈز کی شق نمبر 38 کی روشنی میں مقامی کمیٹی کو مقامی مسائل و مطالبات شامل کرنے کا اختیار حاصل ہے، اس لیے میں عوامی ایکشن کمیٹی برنالہ کی قیادت، بالخصوص آصف چوہان صاحب سے پُرزور گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس مسئلے کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران اور مرکزی قیادت کے سامنے رکھیں اور اسے چارٹر آف ڈیمانڈز میں شامل کروانے کے لیے مؤثر کوشش کریں۔

مذکورہ شق کی روشنی میں رنگ روڈ / بائی پاس برنالہ کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وفاق سے فنڈز کی فراہمی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور منصوبہ بندی کے لیے یہی سب سے موزوں وقت ہے۔ تاخیر کی صورت میں یہ فنڈز دیگر علاقوں کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔لہٰذا اہلیانِ برنالہ پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

1. رنگ روڈ / بائی پاس کے لیے فوری طور پر سروے اور فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کی جائے۔

2. اس منصوبے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے۔

3. زمین کے حصول اور ڈیزائن کے مراحل میں عوامی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

برنالہ کو اگر ایک منظم، محفوظ اور ترقی یافتہ شہر بنانا ہے تو رنگ روڈ / بائی پاس کا قیام ناگزیر ہے۔ یہ منصوبہ کسی فرد یا گروہ کا نہیں بلکہ پورے شہر کے حال اور مستقبل کا سوال ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔

Scroll to Top