واشنگٹن : امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر قانونی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف ایک انسپکٹر جنرل کی رپورٹ اور کیریبین سمندر میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات سامنے آئے ہیں ۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دونوں بڑے سیاسی جماعتوں کے ارکان اب ان سے مستعفی ہونے کا پُر زور مطالبہ کر رہے ہیں ۔
انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہیگستھ نے خفیہ ملٹری انٹیلیجنس معلومات کو غیر مناسب اور غیر مجاز طریقے سے استعمال کیا، جس سے قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔
اس کے علاوہ، ان پر دوسرا سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے کیریبین سمندر میں عام شہری کشتیوں پر حملوں کے احکامات جاری کیے، جس کے نتیجے میں 22 حملوں میں مجموعی طور پر 87 افراد ہلاک ہوئے۔ اس بنیاد پر ان کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ یہ کارروائیاں منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کے خلاف کی گئی تھیں اور ان کے مطابق اس سے تقریباً 25 ہزار امریکی شہریوں کی جانیں محفوظ ہو گئیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یورپ اگلے 20 سال میں اپنی شناخت کھو دے گا ،ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تنقیدی دستاویز
تاہم ایوان میں ڈیموکریٹک اتحاد کے 116 نمائندگان نے کہا کہ یہ حملے غیر ضروری اور خطرناک تھے اور اس طرح امریکی محافظوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا ۔
قانون سازوں کی اس بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف ان کی سیاسی ساکھ کے لیے خطرناک ہے بلکہ امریکی فوجی کارروائیوں اور قومی سلامتی کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے ۔
یہ سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت کی کارروائیوں پر سخت نگرانی اور قانونی تقاضے کس حد تک اہم ہیں، اور وزیر دفاع ہیگستھ کی موجودہ صورتحال آئندہ امریکی سیاسی منظر نامے پر اثر ڈال سکتی ہے ۔




