اسلام آباد (کشمیرڈیجیٹل) بھارتی ریاستی اداروں کی پشت پناہی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو گرائے ہوئے 33برس بیت چکے ہیں، اس کے باوجود اُمت مسلمہ پر لگے زخم تازہ ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے وابستہ ہزاروں ہندوتوا انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا، اتر پردیش میں 16ویں صدی کی بابری مسجد کو مسمار کر دیا ۔
دلخراش واقعہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔اس غم میں اضافہ بھارت کی اعلیٰ عدلیہ کا کردار تھا، جس نے نومبر 2019 میں مسمار شدہ مسجد کی جگہ پر ایک ہندو مندر کی تعمیر کی اجازت دی۔ اپنے فیصلے میں، بھارتی سپریم کورٹ نے نہ صرف ہندوتوا کے بیانیے کو تقویت دی بلکہ بی جے پی کے سخت گیر رہنماؤں کو بھی بری کر دیا ۔
بابری مسجد کے انہدام پر پاکستان کا ردعمل:
بابری مسجد کے انہدام کی 33 ویں برسی کے موقع پر پاکستان نے ایک بیان میں کہا کہ بابری مسجد قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے اور 6 دسمبر 1992 کے واقعات گہرے دکھ اور تکلیف کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔
پاکستان نے کہا کہ انہدام عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی واضح علامت کے طور پر کھڑا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے شفاف احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بابری مسجد واقعہ کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کو مسلسل عدم تحفظ اور نفسیاتی صدمے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے لیے پرعزم ہے ۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ۔
پاکستان نے بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے ۔
دریں اثناء سری نگر میں جاری اپنے بیانات میں کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے رہنماؤں اور تنظیموں نے کہا کہ 33 سال گزرنے کے بعد بھی بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر ہندوتوا گروپوں کے ہجوم کے ہاتھوں بابری مسجد کا انہدام مسلمانوں کے دلوں پر بدستور بھاری ہے ۔
حریت رہنماؤں نے کہا کہ حکمراں بی جے پی ایک فاشسٹ نظریے سے چلتی ہے جس کا مقصد ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔
جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، انہوں نے نوٹ کیا، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے زندگی ناقابل برداشت ہو گئی ہے، ان کے قتل کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی مساجد کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
رہنماؤں اور تنظیموں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت بھی جارحانہ انداز میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوتوا کے نظریے کو مسلط کرنے کے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔
اے پی ایچ سی نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی جان، عزت، املاک اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں ۔




