یونین کونسل بھیڈی بنیادی سہولیات سے محروم ، وزیراعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ

حویلی(کشمیر ڈیجیٹل) یونین کونسل بھیڈی بنیادی سہولیات سے محروم،اہل علاقہ مشکلات کا شکار ۔

دور دراز اور حساس ترین یونین کونسل بھیڈی آج بھی بنیادی انسانی حقوق اور ضروریات زندگی سے محروم ہے۔

ایل او سی کے انتہائی قریب واقع ہونے کے باعث جہاں علاقہ مستقل خطرات کی زد میں رہتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:سکیل ون ملازمین کیلئے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کی منظوری

وہیں سہولیات کا فقدان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔سرکاری عمارتوں اور تعلیمی اداروں کا بحران شدت اختیار کرگیا ۔

مقامی آبادی کے مطابق علاقے میں آج تک کوئی مکمل سرکاری عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ سرکاری اسکولز میں سٹاف کی شدید کمی ہے جبکہ عمارتوں کی عدم موجودگی تعلیم کے عمل کو تقریباً ناممکن بنا چکی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:یوسف رضا گیلانی سے قاسم نون کی ملاقات،سینیٹ لائبریری میں’’ خصوصی کشمیر کارنر‘‘ قائم

علاقے کے والدین نے بتایا کہ سینکڑوں بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔“ہماری اولادیں پڑھنا چاہتی ہیں مگر سکول نہ ہونے کے باعث ان کا مستقبل تاریکی میں ڈوب رہا ہے۔

”صحت کی سہولیات کا فقدان—مریض بے یار و مددگاریونین کونسل بھیڈی میں ہسپتال، ڈسپنسری یا بنیادی مرکز صحت تک موجود نہیں۔ معمولی بیماری بھی بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

مریضوں کو دوسرے علاقوں تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، جس کے باعث بروقت طبی امداد نہ ملنے کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ایل او سی کی کشیدگی—زندگی خوف کے سائے میںعلاقہ چاروں طرف سے لائن آف کنٹرول کے قریب ہونے کی وجہ سے شدید دباؤ کی حالت میں رہتا ہے۔

گولہ باری کا خطرہ، نقل و حرکت میں رکاوٹ اور مستقل خوف عوام کی ذہنی اور معاشرتی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔عوام کا مطالبہ: حکومت فوری اقدامات کرے۔۔

علاقہ مکینوں نے آزاد کشمیر حکومت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندگان سے مطالبہ کیا ہے کہیونین کونسل بھیڈی میں فوری طور پر سرکاری عمارتیں تعمیر کی جائیںسکول قائم کئے جائیں اور سٹاف فراہم کیا جائے۔۔

بنیادی مرکز صحت یا کم از کم ڈسپنسری قائم کی جائےایل او سی سے متاثرہ علاقے کو خصوصی پیکیج دیا جائے،علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں۔۔

عوام نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں بھی اندھیرے میں رہنے پر مجبور رہیں گی۔

Scroll to Top