مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آج 3 دسمبر کو دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس مناسبت سے مظفرآباد ریڈ کریسنٹ کے پلیٹ فارم سے ایک خصوصی سرگرمی کا انعقاد کیا گیا، جس میں معذور افراد کو ریڈ کریسنٹ کی جانب سے بنیادی ضرورت کی اشیاء فراہم کی گئیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1981 کو معذور افراد کا عالمی سال قرار دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہر سال 3 دسمبر کو خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی دن منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 15 فیصد حصہ معذور افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے 80 فیصد افراد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد تقریباً 14 ملین ہے، جس میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ رواں برس مختلف حادثات کی وجہ سے یہ شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کا آخری سپر مون پاکستان میں نظر آئے گا؟
پاکستان میں معذوری کی اقسام میں جسمانی معذوری سب سے زیادہ عام ہے، جو کل معذور افراد کا 33 فیصد ہے۔ اس کے بعد ذہنی معذوری 21 فیصد، بصری معذوری 15 فیصد، اور سماعتی معذوری 9 فیصد ہے۔ کثیرالجہتی معذوری بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جو 19 فیصد افراد کو متاثر کرتی ہے۔
ان معذوریوں کی بنیادی وجوہات میں غذائی قلت، جینیاتی عوامل، جنگی حالات، اور قدرتی آفات شامل ہیں۔ معذور افراد کا عالمی دن نہ صرف خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے منایا جاتا ہے بلکہ اس دن کے ذریعے ان کی زندگی کو بہتر بنانے اور پالیسی سازی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی
خصوصی افراد ہماری توجہ اور مدد کے مستحق ہیں تاکہ وہ معاشرے میں برابری کے مواقع حاصل کر سکیں۔ ریڈ کریسنٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی بنیادی ضرورت کی اشیاء ایسے اقدامات کی ایک مثال ہیں جو معذور افراد کی زندگیوں میں مثبت اثر ڈالتی ہیں۔




