سرکل بکوٹ احتجاج موخر، کوہالہ سے شاہراہ سرینگر ٹریفک کیلئے بحال

سرکل بکوٹ کے رہائشیوں نے احتجاج موخر کر دیا اور کوہالہ سے شاہراہ سرینگر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔ کوہالہ احتجاج تحریک حقوق سرکل بکوٹ کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔

مذاکراتی کمیٹی کا معاہدہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے نمائندوں سے طے پایا گیا جس میں چار ماہ کے اندر مطالبات پر کام شروع کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے سابق ایم پی اے سردار فرید ضامن اور صوبائی حکومت کی طرف سے نزیر احمد عباسی کی طرف سے مئیر ایبٹ آباد سردار شجاع نبی ہوں گے۔ چار ماہ میں اگر مطالبات پر عملدرآمد شروع نہ ہوا تو پہلے سے زیادہ سخت احتجاج کیا جائے گا۔

سرکل بکوٹ ضلع ایبٹ آباد میں عوام نے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کے خلاف کوہالہ پل پر دھرنا دے کر شاہراہِ کشمیر بند کر دی۔ نمل، بکوٹ اور بیروٹ سمیت ہزاروں افراد کے اس پرامن احتجاج سے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر سہولیات کے لیے برسوں سے مطالبات کیے جا رہے ہیں مگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے مکمل بے حسی دکھائی۔ انتظامیہ اسسٹنٹ کمشنر اور بھاری پولیس نفری کے ساتھ پہنچنے کے باوجود راستہ نہ کھلوا سکی۔

یہ بھی پڑھیں: کوہالہ احتجاج، مرکزی شاہراہ بند، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

احتجاج کے باعث سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر اور پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کو بھی واپس جانا پڑا۔ مظاہرین نے سیاسی نمائندگان پر الزام لگایا کہ ووٹ لے کر علاقے کے مسائل بھلا دیے گئے ہیں۔ احتجاجی شرکا نے سڑکوں کی تعمیر، تحصیل بکوٹ میں کالج، ہسپتال اور دیگر بنیادی سہولیات کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہوتی تو عوام سڑکوں پر نہ آتے۔

یہ بھی پڑھیں:پناہ گزینوں کی درخواستوں پر غیر معینہ مدت پابندی برقرار رہ سکتی ہے، ٹرمپ

اس تمام صورتحال کے دوران راستے کی بندش نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، جب کہ طویل قطاروں میں پھنسے مسافروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا رہا۔ احتجاج موخر ہونے کے بعد شاہراہ سرینگر کی بحالی سے عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے چار ماہ کی مدت کے بعد پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top