لندن : برطانیہ کی چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ملک کی خستہ حال پبلک سروسز کو بہتر بنانے کے لیے امیر طبقے سے زیادہ ٹیکس وصول کرناانتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے حالیہ خزانہ جاتی بجٹ میں 26 ارب پاؤنڈ کے اضافی ٹیکس کو درست اور ناگزیر اقدام قرار دیا ہے ۔
ریچل ریوز نے واضح کیا کہ بجٹ میں اسکولوں ، اسپتالوں ، توانائی کے نئے منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کوہر حال میں ترجیح دی گئی ہے ۔ انہوں نے اس تجویز کو مسترد کیا کہ پیداواری صلاحیت میں کمی کے بعد حکومت کو اخراجات میں کمی کرنی چاہیے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایک شخص کے جرم کی سزا پوری برادری کو نہ دی جائے: ٹرمپ سےافغان کمیونٹی کی اپیل
چانسلر کا کہنا تھا کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا، اس لیے وہ عوامی خدمات میں کٹوتی کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یہ بجٹ منصفانہ فیصلوں اور ملکی مفاد میں ضروری اقدامات پر مبنی ہے ۔ ریچل ریوز نے مزید کہا کہ کم سرمایہ کاری ملک کی کمزور معاشی نمو کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے اور جب تک معیشت میں مضبوط سرمایہ کاری نہیں کی جاتی ، ہم معاشی ترقی کے مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سسر کی محنت کی کمائی ہے، دلہے نے جہیز میں ملنے والے لاکھوں روپے ٹھکرا دیے
بجٹ کے اعلان کے بعد ریوز کو آفس فار بجٹ ریسپانسیبلٹی ( او بی آر) کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس نے سوال اٹھایا کہ چانسلر نے بہتر معاشی پیشگوئیوں کی بنیاد پر انکم ٹیکس میں اضافے کا منصوبہ کیوں ترک کیا۔ تاہم چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ پبلک سروسز اور پیداوری کو مضبوط بنانے کیلئے مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے ۔




