بلوچستان کے علاقے ضلع سبی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضاء پھیل گئی ۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز سبی سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا اور اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3 ریکارڈ کی گئی ۔
زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر بتائی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا ۔
جھٹکے محسوس ہوتے ہی متعدد لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے مقامات میں جمع ہوگئے ۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔
زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے ۔
زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے ۔
زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے ۔
زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے ۔
دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ زلزلے بحرالکاہل کے کناروں پر ہوتے ہیں جسے رنگ آف فائر یعنی آگ کا دائرہ کہا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں زمین کے اندر آتش فشانی سرگرمی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں ، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔ ٹیکٹونک پلیٹیں وہ پتھریلی چٹانیں ہیں جن سے زمین کی باہر والی تہ بنی ہوئی ہے ۔
ان پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔
جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جو جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش ایک بار پھر زلزلےسے لرزاٹھا، عوام میں خوف وہراس




