سسر کی محنت کی کمائی ہے، دلہے نے جہیز میں ملنے والے لاکھوں روپے ٹھکرا دیے

بھارت کے مظفرنگر میں 22 نومبر کو ایک منفرد اور دل کو چھو لینے والی شادی کی تقریب ہوئی، جس میں 26 سالہ دلہے نے اپنے سسرال کی جانب سے جہیز میں دیے جانے والے لاکھوں روپے لینے سے انکار کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، دلہے کے لیے جہیز میں 31 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 97 لاکھ پاکستانی روپے) کی رقم ایک تھال میں سجا کر رکھی گئی تھی۔ دلہن کی عمر 24 سال ہے اور ان کے والد کورونا کی وجہ سے انتقال کر چکے تھے۔ دلہے نے دلہن کے والد کی محنت کی کمائی ہونے کی وجہ سے اس رقم کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور صرف 1 روپیہ بطور شگون قبول کیا۔

دلہے کے مطابق، “میرا اس پر کوئی حق نہیں۔ یہ دلہن کے والد کی محنت کی کمائی ہے، میں اسے قبول نہیں کر سکتا۔” دلہے کے اس اقدام نے روایتی رسم و رواج سے ہٹ کر سب کو حیران کر دیا اور تقریب کے مہمانوں نے اسے قابل تعریف قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین کی اپنے شہریوں کو تاجکستانی سرحدی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت، واقعہ پرافغانستان کا بھی ردعمل آگیا

بھارتی میڈیا کے مطابق، دلہے کے والدین نے بھی اس کے فیصلے کی مکمل حمایت کی جبکہ دلہن کے اہل خانہ نے دل سے شکریہ ادا کیا۔ شادی کی دیگر رسومات خوشی اور مسرت کے ساتھ ادا کی گئیں اور دلہن اپنے سسرال مسکراہٹ اور عزت کے ساتھ روانہ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں کے گھروں کی مسماری میری حکومت بدنام کرنے کی کوشش ہے،عمر عبداللہ

تقریب میں موجود افراد نے دلہے کے اس قدم کو جہیز کے خلاف مضبوط پیغام قرار دیا، جس سے موجودہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے لیے ایک متاثر کن مثال قائم ہوئی۔ اس واقعے نے نہ صرف شادی کی تقریب کو یادگار بنایا بلکہ جہیز کے رواج کے خلاف شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

Scroll to Top