گلگت بلتستان کی حکومت 5 سال مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہوگئی، جسٹس (ر) یار محمد خان کو نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مقررکردیا گیاہے۔
گلگت بلتستان کی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد جسٹس ریٹائرڈ یار محمد خان کو صوبے کا نیا نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مقررکردیا گیا ہے۔
وزیراعظم میاں شہبازشریف کی منظوری سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ یار محمد خان کی تعیناتی گلگت بلتستان کے آرٹیکل 48 اے (2) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ یار محمد خان کا تعلق ضلع استور سے ہے اور وہ قبل ازیں عدلیہ کے اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
حکومتِ گلگت بلتستان کی 5 سالہ مدت منگل کی رات 12 بجے پوری ہوگئی تھی، جس کے بعد نگراں حکومت نے امور سنبھال لیے ہیں جبکہ نگراں سیٹ اپ گلگت بلتستان اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات تک برقرار رہے گا۔

دوسری جانب حکومتِ گلگت بلتستان کے قانون و استغاثہ ڈپارٹمنٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق گلگت بلتستان میں وزرا، مشیران، کوآرڈینیٹرز اور وزرائے اعلیٰ کے خصوصی معاونین کو ڈی نوٹیفائی کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں فری لانسرز کی آمدن میں حیران کن اضافہ
نگراں حکومت سے متعلق دفعات کے تحت نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ اس نوٹیفکیشن کا نفاذ 24 نومبر 2025 کی رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ گلگت بلتستان اسمبلی سیکرٹریٹ کے مراسلے اور گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019 کی شق 56(5) کے تحت کیا گیا، جسے گلگت بلتستان (انتخابات اور نگران حکومت) ترمیمی آرڈر 2020 کے ذریعے خطے میں نافذ العمل بنایا گیا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ قوانین کے تحت وزیرِ اعلیٰ کے تمام وزراء، مشیر، کوآرڈینیٹرز، خصوصی معاونین اور پارلیمانی سیکریٹریز کے عہدے ختم ہو گئے ہیں۔ اس حکم نامے پر سیکریٹری قانون و استغاثہ گلگت بلتستان، سجاد حیدر کے دستخط موجود ہیں۔
اس نوٹیفکیشن کے بعد گلگت بلتستان میں نگران سیٹ اپ کے حوالے سے انتظامی ڈھانچے کی راہ ہموار ہو گئی ہے جب کہ متعلقہ عہدوں پر فائز تمام شخصیات آج کی تاریخ سے اپنے عہدوں سے فارغ تصور ہوں گی۔




