اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے سرحد کی بندش کے باعث افغانستان میں اقتصادی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور افغان عوام شدید پریشان ہیں۔
افغان نشریاتی ادارہ آمو ٹی وی کے مطابق، پاکستان سے سرحدی بندش کے بعد افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ افغان عوام نے افغان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ “بنیادی غذائی اشیاء اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، غریب کیسے گزارا کرے؟”۔ افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق ہر ماہ سرحد کی بندش سے تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی
افغان چیمبر آف کامرس نے مزید کہا کہ پاکستان پر تجارتی انحصار کی وجہ سے سرحدی بندش سے افغانستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سردیوں میں افغان عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاک افغان سرحد جلد نہ کھلی تو انسانی اور اقتصادی نقصان میں اضافہ ہوگا۔ قابض افغان طالبان کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو شدید اقتصادی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
سرحد کی بندش نہ صرف معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بنیادی ضروریات کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی اور محدود وسائل عام افغان شہری کے لیے سنگین چیلنج بن گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس کی پاکستان، بھارت اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش
افغان عوام کی تشویش اس بات کی علامت ہے کہ اقتصادی بحران کے ساتھ انسانی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔ فوری اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں معاشرتی اور انسانی نقصان میں اضافہ متوقع ہے۔




