پنجاب ٹریفک پولیس نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ حکام کے مطابق اب ڈرائیونگ ٹیسٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے لیس گاڑیوں کے ذریعے لیا جائے گا۔ یہ گاڑیاں پورے ٹیسٹ کے عمل کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کریں گی اور ڈرائیونگ سکلز کا ہر لمحہ جائزہ لیں گی، جس کا مقصد نظام کو مؤثر اور غیر جانبدار بنانا ہے۔
ابتدائی طور پر لاہور میں دو اے آئی گاڑیاں تجرباتی طور پر ٹیسٹ کی جا چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ان گاڑیوں کو دیگر بڑے شہروں میں بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ ڈرائیونگ ٹیسٹ کے معیار کو مزید بہتر اور شفاف بنایا جا سکے۔
نئے نظام میں ہر گاڑی میں سینسرز، ہائی ریزولوشن کیمرے اور جدید پروسیسرز نصب ہوں گے، جو امیدوار کے ڈرائیونگ سکلز کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ڈرائیونگ ٹیسٹ کے نتائج کو خودکار بنانا ہے، تاکہ کوئی بھی نااہل امیدوار آسانی سے لائسنس حاصل نہ کر سکے۔ اس خودکار نظام کے ذریعے نہ صرف ٹیسٹ کے نتائج زیادہ درست ہوں گے بلکہ ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت بھی یقینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ائیر شو میں بھارتی طیارہ تیجس گر کر تباہ، عوام کا شدید ردعمل
پنجاب حکومت کو اے آئی سے لیس 32 گاڑیوں کی خریداری کے لیے سمری بھیجی جا چکی ہے۔ ان گاڑیوں کی مجموعی لاگت 160 ملین روپے سے زائد ہوگی، جبکہ ہر گاڑی میں سسٹم نصب کرنے کی لاگت تقریباً 6 لاکھ روپے ہوگی۔ حکام کے مطابق دسمبر تک تمام گاڑیاں مکمل طور پر فعال ہو جائیں گی اور نئے نظام کا باضابطہ آغاز کر دیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ اے آئی گاڑیاں نہ صرف ٹیسٹ کے عمل کو شفاف بنائیں گی بلکہ انسانی غلطیوں کو بھی کم کریں گی۔ اس اقدام سے امیدواروں کی کارکردگی کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا اور لائسنس کے حصول میں نااہلی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ قدم ڈرائیونگ ٹیسٹ کے معیار کو عالمی سطح پر بہتر بنانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں تیندوے کے حملے، بکریاں اور بھیڑیں مسلسل نشانہ
اس اقدام سے لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں ڈرائیونگ ٹیسٹ کا عمل نہ صرف جدید اور شفاف ہوگا بلکہ اس کی غیر جانبداری اور مؤثریت بھی بڑھے گی۔ نیا نظام امیدواروں کے لیے زیادہ واضح، ٹیکنالوجی پر مبنی اور معیاری ٹیسٹنگ کا راستہ ہموار کرے گا، جس سے ڈرائیونگ لائسنس کے پورے نظام میں بہتری متوقع ہے۔




