ڈالر کی غلامی؟ امریکی سرکاری ریکارڈ نے سب کچھ بے نقاب کر دیا

گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے اندر ایک بیانیہ مستقل طور پر دہرایا جاتا رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’’پاکستان اور پاک فوج امریکی ڈالر لے کر جنگ لڑتے رہے‘‘، ’’پاکستان، امریکا کا غلام ہے‘‘ اور ’’جرنیل ڈالر بھر بھر کر کھاتے ہیں‘‘۔ یہ پروپیگنڈا مخصوص حلقوں کی جانب سے اس شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا کہ اسے ایک حقیقت کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی، مگر اب امریکی حکومت کے اپنے تازہ ترین سرکاری ریکارڈ نے اس پوری مہم کی بنیاد ہلا کر رکھ دی ہے۔

امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس (CRS) اور یو ایس ایڈ کی ’گرین بُک‘ میں شامل نئے اعداد و شمار نے پہلی بار واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ گزشتہ 70 سالوں میں امریکا نے کن ملکوں کو سب سے زیادہ معاشی اور عسکری مدد فراہم کی۔ رپورٹ کے مطابق 1946 سے 2024 تک امریکا کی امداد کے بڑے حصے دار ممالک میں اسرائیل، مصر، افغانستان، جنوبی ویتنام، جنوبی کوریا، عراق، یوکرین، اردن، ترکیہ اور موجودہ ویتنام شامل ہیں۔

اس فہرست میں اسرائیل کو سب سے زیادہ تقریباً 310 ارب ڈالر ملے، جب کہ مصر کو تقریباً 170 ارب ڈالر کی امداد ملی۔ افغانستان کو صرف 2001 سے 2021 تک 145 سے 160 ارب ڈالر دیے گئے، یعنی دو دہائیوں میں ایک ایسی رقم جو خطے کے کسی اور ملک کو اس سطح پر نہیں دی گئی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس پوری ٹاپ ٹین فہرست میں پاکستان کا نام کہیں موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ تقریرایڈٹ معاملہ: بی بی سی کا ایک اوربڑا عہدیدارمستعفی

وار آن ٹیرر کے بعد منظرنامہ کیا بنتا ہے؟

اگر ڈیٹا کو صرف 2001 کے بعد کی جنگی صورتحال تک محدود کر کے دیکھا جائے تو افغانستان امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ ملک ثابت ہوتا ہے۔ امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کے مطابق 2002 سے 2021 تک افغانستان کو 145 سے 160 ارب ڈالر دیے گئے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت تقریباً 14.6 ارب ڈالر اور دیگر پروگرامز سمیت مجموعی طور پر تقریباً 33 ارب ڈالر ملے—یعنی افغانستان کو پاکستان کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ رقم دی گئی۔

پاکستان پر الزامات اور اصل حقائق:

پاکستان کے خلاف بعض افغان اور پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے یہ الزام مسلسل لگایا جاتا رہا کہ ’’پاکستان نے ڈالر لے کر افغانستان کو تباہ کیا‘‘۔ مگر امریکی ریکارڈ اور زمینی حقائق اس بیانیے کو سراسر جھوٹ ثابت کرتے ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد شہریوں اور 9 ہزار سے زیادہ فوجی جوانوں کی قربانیاں دیں۔ ورلڈ بینک اور اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان کی معیشت کو 130 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔

مزید یہ کہ پاکستان نے 35 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دی، اور اس بھاری مالی بوجھ کا مکمل خرچ عالمی برادری نے کبھی ادا نہیں کیا۔ ایسی قربانیاں کسی غیر ملکی “ڈالر کی غلامی” کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی اور ریاستی بقا سے جڑی ہوئی ہیں۔

امریکی دباؤ اور پاکستان کی ریاستی پالیسی:

امریکا کی جانب سے مختلف ادوار میں امداد روکنے کی دھمکیاں دی گئیں، ’’ڈو مور‘‘ کا دباؤ ڈالا گیا، مگر پاکستانی فوج اور ریاست نے ہمیشہ پالیسی سازی میں قومی مفاد کو ترجیح دی۔ ضربِ عضب، ردالفساد، فاٹا انضمام اور بڑے داخلی آپریشنز کسی غیر ملکی جنگ کا حصہ نہیں تھے بلکہ پاکستان کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک

ایک جواب… ایک سوال میں:

اگر آج بھی کوئی یہ الزام لگائے کہ ’’فوج نے ڈالر کھائے‘‘ تو جواب امریکی سرکاری ریکارڈ میں موجود ایک ہی سوال ہے:
160 ارب ڈالر کس نے لیے؟ پاکستان نے یا افغانستان نے؟
اعداد و شمار خود بولتے ہیں کہ پاکستان نے مالی امداد نہیں، بلکہ سب سے مہنگی جنگ انسانی جانوں، معاشی بوجھ اور عسکری قربانیوں کی صورت میں لڑی ہے۔

Scroll to Top