بنگلور میں پیش آنے والی ایک حیران کن ڈکیتی کی واردات نے بھارتی ریاست کرناٹک میں سکیورٹی اداروں کو چوکنا کر دیا ہے، جہاں ملک کے مرکزی بینک کے افسران کے بھیس میں آئے بہروپیوں نے ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے منتقل کرنے والی کیش وین سے سات کروڑ روپے لوٹ لیے۔ اس واردات نے نہ صرف عوام بلکہ بینکنگ نظام کی سکیورٹی پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
انڈین پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بنگلور میں دن دیہاڑے پیسوں کی وین کو لوٹنے والے مسلح ڈاکوؤں کی تلاش کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واردات ایک مصروف شاہراہ پر اس وقت ہوئی جب ایک ایس یو وی میں سوار چھ افراد نے بینکوں کے درمیان پیسے منتقل کرنے والی وین کو روکا۔
اس وین میں ایک ڈرائیور، ایک کیشیئر اور دو مسلح سکیورٹی گارڈ موجود تھے۔ بنگلور کے پولیس کمشنر سیمنت کمار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکوؤں نے وین میں سوار تمام افراد کو بتایا کہ وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے افسران ہیں اور یہ تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کی منتقلی کے لیے ان کے پاس درست دستاویزات موجود ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے متحدہ عرب امارات کو دنیا کا سب سے زیادہ انسانی امداد فراہم کر نے والا قرار دیا
پولیس کے مطابق اس گروہ نے کیشیئر اور دونوں سکیورٹی گارڈز کو اپنے ہتھیار وین میں رکھنے اور ایس یو وی میں سوار ہونے کا حکم دیا جبکہ ڈرائیور کو ہدایت دی گئی کہ وہ کیش کے ساتھ گاڑی چلاتا رہے۔ کچھ کلومیٹر تک ایس یو وی کا گروہ وین کے پیچھے آتا رہا، لیکن بعد میں ڈاکوؤں نے ڈرائیور کو گاڑی سے نیچے اتارا، کیشیئر اور سکیورٹی گارڈز کو بھی ایس یو وی سے اترنے کو کہا اور بندوق کی نوک پر پیسوں سے بھری رقم اپنی گاڑی میں منتقل کر کے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی میگزین نے بھارت کا سکھ رہنمائوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بے نقاب کردیا
جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے کم تھے، جس کے باعث پولیس کو تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس گروہ نے واردات کے دوران ایک سے زیادہ گاڑیاں بھی استعمال کیں یا نہیں۔ اس واقعے کے بعد شہر میں بینکنگ سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔




