بنگلہ دیش میں آج جمعے کو آنے والے طاقت ور زلزلے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ۔
پولیس اور محکمہ صحت کے مطابق 5اعشاریہ 7کی شدت کے زلزلے نے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور لوگ گھروں اور دفاتر سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے باہر نکل آئے ۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 5.7 کی شدت کا یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 38 منٹ پر نرسنگدی کے قریب آیا جو دارالحکومت ڈھاکا سے تقریباً 33 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔
زلزلے کے جھٹکے ڈھاکا سمیت قریبی شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، اطلاعات کے مطابق شہری عمارتوں سے باہر نکل آئے ۔
حکام کے مطابق امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور زخمیوں کوہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔
زلزلے کے بعد کسی بڑے ڈھانچے کو نقصان کی فوری طور پراطلاع نہیں ملی، تاہم مقامی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کیلئے ٹیمیں روانہ کر دی ہیں ۔
زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے ۔
زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے ۔
زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے ۔
زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے ۔
دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ زلزلے بحرالکاہل کے کناروں پر ہوتے ہیں جسے رنگ آف فائر یعنی آگ کا دائرہ کہا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں زمین کے اندر آتش فشانی سرگرمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں ۔ ٹیکٹونک پلیٹیں وہ پتھریلی چٹانیں ہیں جن سے زمین کی باہر والی تہ بنی ہوئی ہے۔
ان پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔
جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جو جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گوادر اور تربت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، شدت 3.8 ریکارڈ




