مظفرآباد: آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شوائی تا شہید گلی روڈ اور شوائی نالہ کے علاقے میں غیر قانونی چائنہ کٹنگ کا سلسلہ تیزی سے بڑھ گیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق سرکاری اراضی اور پہاڑی دامن کو ٹکڑوں کی شکل میں کاٹ کر فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ علاقے کے مکینوں نے بتایا کہ شوائی نالہ میں بھی غیر قانونی پہاڑوں کی کٹائی عروج پر پہنچ چکی ہے اور بھاری مشینری کے ذریعے پہاڑوں کو کاٹ کر تعمیراتی ملبہ نالے میں پھینکا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال سیلابی خطرات، نالہ بندش اور کمزور ہونے والے اسٹرکچر کی وجہ سے بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حج 2026: دوسری قسط ادائیگی کی تاریخ میں تین دن کی توسیع
عوام نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، ماحولیات ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس صورتحال سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ متعدد شکایات کے باوجود نہ تو کوئی کارروائی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
مقامی رہائشیوں نے حکومتِ آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری اور ڈائریکٹر ماحولیات سے مطالبہ کیا ہے کہ شوائی تا شہید گلی روڈ اور شوائی نالہ میں غیر قانونی چائنہ کٹنگ کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ انسانی جانوں اور قدرتی ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں چلغوزہ سستا ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی
شہریوں نے زور دے کر کہا کہ پہاڑی علاقوں کی غیر قانونی کٹائی روڈ سیکیورٹی اور قدرتی ماحول کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس سے بچنے کے لیے مقامی اور مرکزی اداروں کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا۔




