ملک کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے پہلا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد: پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے اپنا پہلا فیصلہ جاری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر کے حکم امتناع دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر سماعت کی، جس میں پشاور ہائیکورٹ کے آجر اور اجیر کے متعلق فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیئے کہ غریب مزدور کے پاس سیکورٹی ڈیپازٹ کی مد میں اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس غریب مزدوروں سے متعلق ہے، اور قانون یہ ہے کہ کوئی نجی ادارہ مزدور کو کام سے نکالے گا تو اس کے واجبات ادا کرے گا۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور حکم امتناع دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر آج ووٹنگ ہوگی

اس کے علاوہ وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی کی درخواست پر سماعت کی اور درخواست گزار ملازمین کو وکیل کرنے کی مہلت دی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ درخواست گزار اپنا وکیل لائیں ورنہ درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف درخواست بھی نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کیس دائر ہونے کے بعد 8 سال تک سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہ ہوا، اور لاہور ہائیکورٹ نے وائس چانسلر اسد اسلم کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زلمی خلیل داد کی ٹویٹ بے بنیاد، اوکاڑہ میں قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

قبل ازیں پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت نمبر 2 میں اپنی پہلی سماعت کا آغاز کیا تھا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے تین بنچ تشکیل دیے:

  • بنچ 1: چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس ارشد حسین شاہ
  • بنچ 2: جسٹس حسن رضوی، جسٹس کے کے آغا
  • بنچ 3: جسٹس عامر فاروق، جسٹس روزی خان

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی کمروں کی منتقلی جاری ہے، اور آئینی عدالت کے ججز مختلف فلورز اور کورٹ رومز میں سماعت کریں گے۔

Scroll to Top