زیادتی

مسلم طالبہ کیساتھ زیادتی ، بی جے پی لیڈر پدم راجن کو موت تک عمرقید کی سزا

تھلاسری کی خصوصی عدالت نے مسلم طالبہ سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں بی جے پی لیڈر اورسکول ٹیچر پدم راجن کو فطری موت تک عمرقید کی سزا سناتے ہوئے اسے قصوروار قرار دیدیا ۔

جمعہ کے روز خصوصی جج ایم ٹی جلجا رانی نے پالتھائی کے بچوں کے جنسی استحصال کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پدم راجن کے خلاف تمام الزامات ثابت ہو چکے ہیں ۔

پدم راجن جو مقامی سطح پر ’’پپن ماسٹر‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور بی جے پی کا سرگرم رہنما ہے، کو جرم ثابت ہونے کے اگلے ہی روز عمرقید کی سزا دی گئی ۔

عدالت نے اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جبکہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ایک سال مزیدقید کاٹنے کاحکم دیا ۔

عدالت نے اسے POCSO ایکٹ کی دو مختلف دفعات کے تحت 20، 20 سال کی سخت قید سنا کر مجموعی طور پر 40 سال کی سزائیں مقرر کیں، جنہیں ملا کر تاحیات قید کی شکل دے دی گئی۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پردو لاکھ روپے جرمانہ بھی رکھا گیا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایک اور ملک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی

49 سالہ پدم راجن بی جے پی تھرپنگوٹور پنچایت کے سابق صدر اور سنگھ پریوار سے منسلک اساتذہ کی تنظیم کا ضلعی عہدے دار رہ چکا ہے ۔

متاثرہ بچی محض 10 سال کی تھی اور اسی سکول میں پڑھتی تھی جہاں پدم راجن استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا ۔ اس دوران ملزم نے سکول کے بیت الخلاء سمیت متعدد مقامات پر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔

یہ کیس مارچ 2020 میں اُس وقت سامنے آیا جب تھلاسری میں چائلڈ لائن کی جانب سے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی گئی ۔ 18 مارچ 2020 کو پدم راجن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور تقریباً ایک ماہ بعد 15 اپریل کو اسے حراست میں لیا گیا ۔

Scroll to Top