چین کے تین خلا باز ایک ہفتے سے زائد عرصہ کے بعد جمعہ کو زمین پر محفوظ طور پر واپس پہنچ گئے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان کا خلائی جہاز شین ژو-20 اسپیس اسٹیشن پر خراب ہو گیا تھا۔ جہاز میں کھڑکی میں دراڑ آنے کی وجہ سے یہ حادثاتی طور پر خطرناک ہو گیا، جس کے بعد چینی خلائی حکام نے فیصلہ کیا کہ یہ جہاز مزید پرواز کے قابل نہیں رہا۔
اس کے نتیجے میں شین ژو-20 اسپیس اسٹیشن پر چھوڑ دیا گیا اور عملے کے ارکان چن ڈونگ، چن ژونگروی اور وانگ جیے نے شین ژو-21 جہاز کے ذریعے زمین پر واپسی کی، جو اصل میں چھ ماہ بعد واپس آنے والا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر سمیت ملک بھر میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان
تیانگونگ اسٹیشن پر نئے خطرات:
اس وقت اسٹیشن پر موجود نئے عملے کے پاس کوئی فعال خلائی جہاز موجود نہیں ہے جو ہنگامی حالات میں انہیں واپس لا سکے۔ اس عملے میں 32 سالہ وو فی بھی شامل ہیں، جو چین کے سب سے کم عمر خلاباز ہیں۔
چینی خلائی حکام نے اسٹیشن پر موجود خطرات کے بارے میں فی الحال کوئی وضاحت نہیں دی، بلکہ سرکاری میڈیا نے شین ژو-21 کی زمین واپسی کے سفر پر توجہ مرکوز کی ہے۔
تاریخی ریکارڈ اور کامیابی:
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شین ژو-20 کے عملے کی واپسی چین کے خلائی پروگرام میں متبادل واپسی کا پہلا کامیاب تجربہ ہے۔ اس دوران تینوں خلابازوں نے مدار میں طویل ترین قیام کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
آئندہ منصوبے اور ممکنہ اقدامات:
چین کی خلائی ایجنسی نے اعلان کیا کہ شین ژو-22 کو منصوبے سے پہلے ہی روانہ کیا جائے گا تاکہ موجودہ عملے کو واپس زمین پر لایا جا سکے۔ مزید کہا گیا کہ شین ژو-20 کو یا تو مدار میں درست کرنا ہوگا یا اسے مکمل طور پر اسٹیشن سے ہٹانا ہوگا، کیونکہ تیانگونگ اسٹیشن کے لیے ہر وقت ایک خالی ڈوکنگ پورٹ ضروری ہے تاکہ نئے شین ژو جہاز آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا شین ژو 21 مشن کامیابی سے خلا روانہ، سب سے کم عمر خلاباز بھی شامل
اگر شین ژو-20 میں نقصان بہت زیادہ پایا گیا تو اسے اسپیس اسٹیشن سے علیحدہ کر کے بحر الکاہل میں گرایا جا سکتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ شین ژو جہاز کو عملے کی واپسی کے بعد اسپیس اسٹیشن پر چھوڑا گیا ہے۔




