اوٹاوا: کینیڈا نے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلہ لینے والے بین الاقوامی گریجویٹ اسٹوڈنٹس کے لیے اسٹڈی پرمٹ کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
یہ اقدام امیگریشن لیولز پلان 2026–2028 کے تحت کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد دوہرا ہے: ایک طرف ملک میں اعلیٰ معیار کی تحقیقی صلاحیتوں کو راغب کرنا اور دوسری جانب طلبہ کی مجموعی تعداد کو متوازن رکھنا۔
پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے تیز تر ویزا پراسیسنگ:
اس حد کی خاتمے کے ساتھ ساتھ، بین الاقوامی پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹس کے لیے اسٹڈی پرمٹ کی تیز رفتار پراسیسنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جو 14 دن میں مکمل ہوگی۔ یہ سہولت ان کے ہمراہ آنے والے خاندان کے افراد پر بھی لاگو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اب گوگل میپس میں نئے فیچر کے ساتھ بات چیت ہو گئی ممکن
امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا نے ایک مخصوص ویب پیج جاری کیا ہے، جس میں گریجویٹ پروگرامز، اسکالرشپ مواقع اور گریجویشن کے بعد کام کے مواقع کی تفصیلات شامل ہیں۔
ایک اہلکار نے کہا: “گریجویٹ طلبہ کینیڈا کے تحقیقی اور اختراعی شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور طویل مدت میں کینیڈا میں رہنے اور معیشت میں حصہ ڈالنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔”
یہ تبدیلی کیوں اہم ہے:
اگرچہ کینیڈا بین الاقوامی انڈرگریجویٹ اور کالج سطح کے اسٹوڈی پرمٹ کی تعداد محدود کر رہا ہے، گریجویٹ اسٹوڈنٹس زیادہ تر کیپس سے مستثنیٰ ہیں تاکہ ملک میں ہنرمند محققین اور اختراعی شخصیات کی آمد جاری رہے۔ یہ افراد اقتصادی ترقی اور سائنسی و تکنیکی معیار کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
نئی پالیسی ایک حکمت عملی پر مبنی نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی اسٹوڈنٹس کے بازار میں ترقی اور پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ ٹیکنالوجی میں ایپل سے مقابلہ کرنے کو تیار،اہم فیصلہ کر لیا
کینیڈا کا ہدف ہے کہ 2027 تک عارضی رہائشی آبادی ، جس میں طلبہ، عارضی کارکنان اور قلیل مدتی زائرین شامل ہیں ، کل آبادی کا پانچ فیصد سے کم ہو، تاکہ رہائش، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔




