افغانستان کے ہندوکش خطے میں رات گئے شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جنہوں نے کئی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق زلزلے کے جھٹکے افغانستان کے شہر مزار شریف سمیت دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 150 زخمی ہوگئے۔ زلزلے کے باعث متعدد مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
مزار شریف میں زلزلے کے وقت شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لوگ آدھی رات میں گھروں سے نکل کر کھلے مقامات کی طرف دوڑنے لگے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے مکانات گر سکتے ہیں۔ شدید جھٹکوں کے باعث متعدد عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.3 اور گہرائی 28 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز صوبہ سمنگان کے ضلع خُلم سے تقریباً 22 کلو میٹر جنوب مغرب میں تھا۔ ماہرین کے مطابق اس خطے میں زیرِ زمین سرگرم فالٹ لائنز کے باعث اکثر اوقات زلزلوں کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور ناروے اے آئی کے عالمی استعمال میں سب سے آگے
رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران میں بھی محسوس کیے گئے۔ لوگوں نے مختلف شہروں میں خوف کے عالم میں رات کھلے میدانوں میں گزاری۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں کو ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد ہفتے میں پیش کردی جائیگی، میاں وحید
واضح رہے کہ رواں سال 31 اگست کو افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2023 میں 6.3 شدت کے زلزلے اور آفٹر شاکس کے نتیجے میں کم از کم 4 ہزار اموات ہوئی تھیں۔ ہندوکش خطہ ماضی میں بھی زلزلوں سے شدید متاثر رہا ہے جہاں زمینی فالٹ لائنز مسلسل متحرک رہتی ہیں۔




