نارووال : وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ترقیاتی کام ٹیکس کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ حکومت کے پاس پیسے چھاپنے کی مشین نہیں ہوتی ۔
تفصیلات کے مطابق نارووال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے اور ہمیں ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور جذبے کے ساتھ کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بجلی، گیس اور توانائی کے شعبوں میں جاری بحران پر قابو پایا جائے ۔
احسن اقبال نے کہاکہ جب حکومت برسراقتدار آئی تو معیشت سمیت تمام شعبے تباہ حالی کا شکار تھے، تاہم اب رفتہ رفتہ بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ معیشت میں بہتری کے ساتھ بجلی کے نرخ کم کرنا اور گیس کی قیمتیں مناسب سطح پر لانا ممکن ہوگا ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جائے ، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک بھر میں ٹیکس چوری کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادیِ صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف
انہوں نے شہریوں سے کہا کہ جو لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں ، انہیں حکومت کے ساتھ مل کر ٹیکس چوروں کی نشاندہی کرنی ہوگی، کیونکہ اگر ٹیکس چوری جاری رہی تو تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ پڑے گا ۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اس وقت 10.5 فیصد ہے ، جبکہ دیگر ممالک میں یہ شرح 16 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس سے حکومت ترقیاتی اور دیگر منصوبے مکمل کر سکتی ہے ۔
آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جس جذبے سے ہماری افواج دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہیں ، اسی جذبے سے ملکی معاشی بہتری کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہیے ، کیونکہ اس میں تاخیر یا تعاون نہ کرنا افواج کی قربانیوں کے صلے میں زیادتی کے مترادف ہوگا ۔




