دبئی : عمان نے نئے شہریت قانون کے تحت 45 افراد کو عمانی شہریت دے دی ۔ سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے پینتالیس افراد کو عما نی شہریت دینے کی منظوری دی ۔ یہ فیصلہ اُن افراد کے اعتراف کے طور پر کیا گیا ہے جنہوں نے ملک کے ساتھ گہرا تعلق اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ۔
یہ اعلان نئے عمانی شہریت قانون کے نفاذ کے بعد سامنے آیا، جو 2 فروری 2025 سے نافذ العمل ہے اور سابقہ قانون کی جگہ لے چکا ہے۔ نئے قانون کے مطابق، شہریت حاصل کرنے کے بنیادی طریقے یہ ہیں:
1۔ پیدائش کے ذریعے
2۔ عمانی شہری سے شادی کے ذریعے
3۔ قدرتی طریقے (Naturalisation) کے تحت
ہر طریقے کے لیے مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق، پیدائش کی بنیاد پر شہریت کے لیے والدین کی شہریت اہمیت رکھتی ہے، شادی کے ذریعے شہریت کے لیے غیر ملکی شریکِ حیات کے لیے طے شدہ مدت اور قواعد ہیں، اور قدرتی شہریت کے لیے رہائش، وفاداری اور کردار کے تقاضے مقرر ہیں ۔
قانون میں نسلی وراثت کے ذریعے شہریت (Citizenship by Descent) کے اصول بھی واضح کیے گئے ہیں۔
نئے قانون میں دوہری شہریت ممنوع قرار دی گئی ہے، البتہ سلطان استثنا دے سکتا ہے ۔ جو بھی عمانی شہری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شہریت اختیار کرے گا، وہ اپنی عمانی شہریت کھو دے گا ۔
شہریت منسوخی کے حالات میں شامل ہیں: سلطان یا سلطنت کی توہین، ریاست مخالف سرگرمیاں، دشمن ممالک کیساتھ تعلقات، یا ایسی غیر ملکی ملازمت جو عمان کے مفادات کیخلاف ہو اور جس پر سرکاری انتباہ کے باوجود استعفا نہ دیا جائے۔ دشمن ممالک کیلئے سرگرمی کرنے والے شہریوں کی شہریت بھی منسوخ کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر وہ وجوہ ختم ہو جائیں جن کی بنیاد پر شہریت واپس لی گئی تھی، تو شہریت دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے ۔
اگر کوئی شخص بلا اجازت 24 ماہ سے زائد عمان سے باہر رہے، تو وہ بھی اپنی شہریت کھو سکتا ہے ۔
شادی کے ذریعے حاصل ہونے والی شہریت کے حوالے سے یہ اصول ہیں:
غیر عمانی مرد جو عمانی خاتون سے شادی کے ذریعے شہریت حاصل کرے، اگر طلاق یا علیحدگی پانچ سال کے اندر ہو جائے، تو شہریت ختم ہو جائے گی، تاہم بچوں کی شہریت برقرار رہے گی ۔
غیر عمانی عورت جو عمانی مرد سے شادی کے ذریعے شہریت حاصل کرے، اگر طلاق کے بعد کسی غیر عمانی شخص سے دوبارہ شادی کرے، تو اس کی عمانی شہریت منسوخ ہو جائے گی ۔




