ٹرمپ نے نائیجیریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے دی

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ اگر نائیجیریا نے ملک میں عیسائیوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

ٹرمپ کا یہ سخت مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے نائیجیریا کو ایک بار پھر اُن ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جن پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی اس فہرست میں چین، میانمار، شمالی کوریا، روس اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکا نائیجیریا کو دی جانے والی تمام مالی امداد اور تعاون فوری طور پر بند کر دے گا۔ ان کے مطابق، مذہبی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر ملک کی ذمہ داری ہے، اور اگر نائیجیریا اس میں ناکام رہا تو امریکا خاموش نہیں بیٹھے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا نے کارروائی کی تو وہ ’’تیز، سخت اور فیصلہ کن‘‘ ہوگی تاکہ ان ’’دہشتگردوں‘‘ کو ختم کیا جا سکے جو عیسائی برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا طاقت کے زور پر دہشتگردوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی ایسے ملک کو برداشت نہیں کرے گا جو اپنے شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو۔

یہ بھی پڑھیں: چینی صدر کا مصنوعی ذہانت نگرانی کے لیے عالمی ادارہ قائم کرنے پر زور

نائیجیریا کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے اسے ’’بدنام ملک‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق ’’اب وقت آ گیا ہے کہ نائیجیریا اپنی سرزمین پر ہونے والے مذہبی تشدد کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔‘‘

نائیجیریا میں حالیہ برسوں کے دوران بکوحرام اور آئی ایس ڈبلیو اے پی جیسے گروہوں کی جانب سے مسیحی برادری پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق صرف گزشتہ سال نائیجیریا میں مذہبی بنیادوں پر تشدد کے باعث سینکڑوں عیسائی ہلاک اور درجنوں گرجا گھر تباہ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا اقدام،وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کا داخلہ بند

ان واقعات پر عالمی برادری کی جانب سے شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے، تاہم نائیجیریا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسندی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیان پر تاحال نہ تو نائیجیریا کی حکومت اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ان کی انتخابی مہم کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں، جہاں وہ خود کو عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے علمبردار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

Scroll to Top