(کشمیر ڈیجیٹل): میڈیا کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آ گیا ہے۔ برطانوی چینل فور (Channel 4) نے دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت (AI) پریزنٹر متعارف کرا دی ہے، جس کے بعد میڈیا انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مختلف پیشوں میں انسانوں کی جگہ ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور اب یہ سلسلہ ٹی وی صحافت تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چینل فور پر 20 اکتوبر کو پہلی بار ایک اے آئی پریزنٹر نے تجرباتی طور پر ٹی وی اسکرین پر دستاویزی پروگرام کی میزبانی کی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس اے آئی پریزنٹر کا اندازِ بیاں، چہرے کے تاثرات اور آواز کا اتار چڑھاؤ اتنا حقیقی محسوس ہوا کہ ناظرین لمحہ بھر کے لیے یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فیمیل پریزنٹر ہے۔
پروگرام کے دوران خاتون پریزنٹر نے ناظرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگلے چند سالوں میں مصنوعی ذہانت سب کی زندگیوں کو متاثر کرے گی اور کچھ لوگ اپنی ملازمتوں سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔ ان میں کال سینٹر کے ورکرز، کسٹمر سروس ایجنٹس، یا میرے جیسے ٹی وی پریزنٹرز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔‘‘
اگلے لمحے اس نے سب کو حیران کر دیا جب اس نے کہا کہ ’’میں حقیقی نہیں ہوں بلکہ ایک اے آئی پریزنٹر ہوں، جسے برطانوی ٹی وی نے سب سے پہلے اپنی اسکرین پر متعارف کرایا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: چین کا شین ژو 21 مشن کامیابی سے خلا روانہ، سب سے کم عمر خلاباز بھی شامل
یہ پیش رفت جہاں ٹیکنالوجی کے حیران کن ارتقاء کو ظاہر کرتی ہے وہیں یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت اتنی قابلِ یقین، موثر اور کم خرچ ہو سکتی ہے تو پھر انسانی تخلیقی پیشوں — خصوصاً صحافت، اینکرنگ اور ٹی وی میزبانی — کا مستقبل کیا ہوگا؟
چینل فور کے اس تجربے کے بعد دنیا بھر کے میڈیا اداروں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی ماہرین نے اس پیش رفت کو ’’میڈیا انڈسٹری کا نیا دور‘‘ قرار دیا ہے جب کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی انسانی نوکریوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو بڑا جھٹکا: شہریت کے ثبوت سے متعلق حکم نامہ کالعدم قرار
واضح رہے کہ اس سے قبل ہالی ووڈ اداکاروں نے ایک اے آئی اداکارہ کے تعارف پر احتجاج کیا تھا۔ اسی طرح، البانیہ میں مصنوعی ذہانت پر مبنی وزیر کا تقرر کیا جا چکا ہے جبکہ جاپان میں ایک سیاسی جماعت کی قیادت بھی اے آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔




