سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کیخلاف مقدمہ درج

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کیخلاف ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں مقدمہ درج ۔

ایف آئی آرکے مطابق مقدمہ بطور چیئرمین ایف بی آر خلاف ضابطہ 16 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ریفنڈ کے الزام میں درج کیا گیا ۔۔

ریفنڈ حاصل کرنے والوں میں 3 بینکس، دو سیمنٹ ساز کمپنیاں اور ایک کیمیکل کمپنی شامل ہے، مذکورہ کمپنیاں اور بینک شبر زیدی کی بطور چیئرمین تعیناتی سے قبل انکی فرم کے کلائنٹس تھے۔۔

بطورچیئرمین شبر زیدی نے اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیر مجاز طور پر ادائیگیاں مئی 2019 سے جنوری 2020 کی مدت میں کیں۔

29 اکتوبر کو درج ایف آئی آر میں سید محمد شبر زیدی، ایف بی آر اہلکار اور بینک انتظامیہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

یاد رہے عمران خان کی جانب سے شبر زیدی کو عہدے سے ہٹانے کے بعد قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ایک درخواست موصول ہوئی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے قریبی 6 کمپنیوں کو ریفنڈ کی مد میں 16 ارب کا فائدہ پہنچایا۔

کمیٹی نے ایف بی آر سے جواب مانگا تو فروری 2022 میں ایف بی آر کے ممبر اکاؤنٹنگ اینڈ آڈٹ بادشاہ خان وزیر نے رپورٹ پیش کی تھی جس میں تمام الزامات کو بنیاد ہی سے مسترد کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق شبّر زیدی نے نہ کسی مبینہ کلائنٹ، سیمنٹ، بینکنگ، فرٹیلائزر یا فوڈ کمپنی کو غیرقانونی ریفنڈ دینے کی ہدایت کی اور نہ ہی ایف بی آر کے ریکارڈ میں کسی ایسی ہدایت کا کوئی ثبوت ملا تھا۔

یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ جن ریفنڈز کی کل رقم 16.2 ارب روپے ظاہر کی گئی، اصل میں صرف 12 ارب روپے جاری ہوئے، اور وہ بھی چیئرمین کے نہیں بلکہ متعلقہ کمشنرز کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اسی عرصے میں 71 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے جن میں چھ ٹیکس دہندگان کے ریفنڈ محض 17.7 فیصد تھے۔

ایف بی آر نے رپورٹ میں واضح کیا کہ شبّر زیدی نے عہدہ سنبھالنے سے قبل اپنی چارٹرڈ اکاؤنٹنسی فرم سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ریفنڈ قواعد، روٹین پریکٹس اور نیک نیتی کے تحت جاری ہوئے، کسی قسم کی جانبداری ثابت نہیں ہوئی تھی۔

اس کے باوجود پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بعد میں ہونے والے اجلاس میں اس پر فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا اور اب حالات یہ ہیں کہ سرد خانے کی نذر ہونے والی فائل دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ریکارڈ موصول ہونے کے بعد سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو نوٹس کے زریعے طلب کرئے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:روس پر امریکی پابندیاں، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا امکان

Scroll to Top