اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) روسی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد یکم نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول 1 روپے 48 پیسے اور مٹی کے تیل میں 2 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو یکم نومبر سے پیٹرول کی نئی قیمت 264 روپے 50 پیسے، ڈیزل 276 روپے 80 پیسے، مٹی کا تیل 184 روپے 05 پیسے اور لائٹ ڈیزل 163 روپے 25 پیسے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔
تاہم حتمی قیمتوں کا اعلان 15 روزہ درآمدی اور زرمبادلہ کے اعداد و شمار کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد 31 اکتوبر کی شام کیا جائے گا۔
قیمتوں میں اضافہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روس کی بڑی تیل کمپنیوں پر امریکا کی تازہ پابندیوں کے اثرات کے باعث متوقع ہے۔
یورپی یونین کی نئی پابندیوں میں 2026 کے اختتام تک روسی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد پر مکمل پابندی شامل ہے۔
رِیلائنس نے کہا کہ اسے اپنے ’آزمودہ اور متنوع خام تیل کے حصول کے نظام‘ پر بھروسہ ہے، جو ریفائنری آپریشنز کے استحکام اور مقامی و برآمدی ضروریات (بشمول یورپ) کی تکمیل کو یقینی بنائے گا۔
بدھ کو فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایچ ایم ای ایل کو روسی خام تیل کی کئی ترسیلات موصول ہوئی ہیں، جو ان جہازوں کے ذریعے کی گئیں جنہیں بعد میں امریکی اور یورپی یونین نے بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
ایچ ایم ای ایل نے کہا کہ اس نے وہ جہاز چارٹر نہیں کیے تھے اور اسے نقل و حمل کے سلسلے میں محدود معلومات حاصل تھیں، کمپنی کے مطابق جس جہاز نے بھارت کو خام تیل پہنچایا تھا، اس پر ترسیل کے وقت امریکی پابندیاں عائد نہیں تھیں۔
روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے پروڈیوسرز پر انحصار کرنے والے نئی دہلی نے 2022 میں روسی تیل بڑے پیمانے پر خریدنا شروع کیا تھا، تاکہ مغربی پابندیوں کے باعث ماسکو کی رعایتی قیمتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم نے بلوچستان کی طالبہ کو اپنی کرسی پر بٹھادیا، ہال تالیوں سے گونج اٹھا




