بھارت بینک وائی فائی پاکستان زندہ باد واقعے نے بنگلورو میں سنسنی پھیلا دی۔ نجی بینک کی وائی فائی آئی ڈی اچانک تبدیل ہونے پر انتظامیہ اور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں جبکہ علاقے میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو روز قبل گووردھن سنگھ نامی ایک شہری نے بنگلورو کے ایک نجی بینک میں مشتبہ وائی فائی آئی ڈی دیکھنے کے بعد فوری طور پر پولیس کو شکایت درج کروائی۔ شکایت کنندہ کا تعلق سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے یوتھ ونگ بجرنگ دل سے بتایا گیا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس علاقے میں ملک دشمن عناصر سرگرم ہیں جو اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں۔ تنظیم کے کارکنوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تفتیش کی جائے اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے۔
دوسری جانب نجی بینک کے ترجمان نے مؤقف دیا کہ بینک کی وائی فائی سروس میں تکنیکی خرابی کے باعث ایک مقامی ٹیکنیشن کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، مرمت کے دوران وائی فائی آئی ڈی میں تبدیلی واقع ہوئی۔ بینک کے مطابق اس کے بعد وائی فائی کا نام خود بخود ’پاکستان زندہ باد‘ میں تبدیل ہوگیا، تاہم اس تبدیلی سے بینک انتظامیہ کا کوئی تعلق نہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی چھان بین کے دوران جب مذکورہ ٹیکنیشن سے رابطہ کیا گیا تو وہ بینک سے جاچکا تھا، اور اس کا فون نمبر بھی مسلسل بند جارہا ہے۔ پولیس نے شکایت کنندہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرتے ہوئے ٹیکنیشن کی تلاش شروع کر دی ہے، تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑمیں پاک افغان سرحد پر خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وائی فائی آئی ڈی میں تبدیلی جان بوجھ کر کی گئی یا یہ کسی تکنیکی غلطی کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔




