ٹرمپ کا دوحہ میں مختصر قیام، امیرِ قطر سے ملاقات اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

دوحہ (کشمیر ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملائیشیا کے دورے پر جاتے ہوئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مختصر قیام کیا، جہاں انہوں نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی سے جہاز میں ملاقات کی۔

دوحہ میں مختصر قیام کے دوران اہم گفتگو:

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ آسیان (ASEAN) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا جا رہے تھے۔ دوحہ میں مختصر قیام کے دوران ہونے والی ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن، علاقائی تعاون اور عالمی معیشت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے مشرقِ وسطیٰ میں ناقابلِ یقین امن حاصل کیا ہے اور قطر نے اس میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔”

چین سے ملاقات اور تجارتی معاہدے پر گفتگو:

بعد ازاں طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں چین کے صدر شی جن پنگ سے ایک بہترین ملاقات کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین مزید 100 فیصد ٹیرف سے بچنے کے لیے تجارتی معاہدے پر رضامند ہو جائے گا، جو یکم نومبر سے نافذ ہونے والا ہے۔

غزہ امن مشن پر ٹرمپ کے بیانات:

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے جلد ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی، اور اگر ضرورت پڑی تو قطر غزہ میں امن فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “حماس کو فوری طور پر یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنی چاہئیں، بصورت دیگر امن معاہدے میں شامل ممالک کارروائی کریں گے۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران صورتحال پر گہری نظر رکھے گا۔

ایشیا کے دورے کا مقصد:

ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایشیا کے دورے پر ہیں، جہاں وہ چین، جنوبی کوریا اور جاپان کے حکومتی سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے بھی ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ جزیرہ نما کوریا میں امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں نئی سیاسی ہلچل ، طلال چوہدری نے بھی خاموشی توڑ دی

Scroll to Top