اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سونے کی بین الاقوامی تجارت بحال کرنےکی منظوری دیدی

اسلام آباد:کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے وزارت دفاع،وزارت داخلہ اور الیکشن کمیشن سمیت کئی وزارتوں کیلیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی۔

وزیرخزانہ کی زیرصدارت جمعے کو ہونیوالے اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر سونے کی تجارت بحال کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی جبکہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق سخت اقدامات پر فیصلہ موخرکر دیاگیا۔

اجلاس میں وزارت تجارت نے تجویز دی کہ گاڑیوں کی درآمد صرف اسی ملک سے کی جائے جہاں بھیجنے والا شخص مقیم ہو، تاکہ سکیموں کے غلط استعمال کو روکاجاسکے۔

فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) نے مؤقف اختیارکیاکہ تجویز سے زیادہ تر پاکستانیوں کیلئے درآمد ناممکن ہو جائیگی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے چلنے والی گاڑیاں رکھنے والے ممالک میں رہتے ہیں۔

وزارتِ صنعت نے تجویز دی کہ ’’تحفہ‘‘ اور ’’ذاتی سامان‘‘ سکیمیں ختم کر دی جائیں،جبکہ صرف ’’رہائش کی منتقلی‘‘ سکیم برقرار رکھی جائے۔

وزارت تجارت نے تینوں سکیموں کو برقراررکھتے ہوئے ان کے غلط استعمال کی روک تھام کیلیے سخت شرائط کی سفارش کی تھی،جن میں کم ازکم تین سال بیرونِ ملک قیام،گاڑی کی غیرمنتقلی کی مدت ایک سال اور درآمدسے قبل بیرونِ ملک رجسٹریشن لازمی قرار دیناشامل تھا۔

ای سی سی نے وزارت تجارت کو ہدایت دی کہ وہ تمام متعلقہ اداروں سے دوبارہ مشاورت کرکے مجوزہ ترامیم دوبارہ پیش کرے۔

دوسری جانب ای سی سی نے سونا،قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد و برآمد سے متعلق موجودہ فریم ورک کو شفافیت اور خودکار نظام کے ساتھ بحال کرنے کی منظوری دیدی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا مہنگائی کا طوفان کنٹرول کرنے کیلئے جامع پلان تیار کرنے کا فیصلہ

اس فیصلے کے تحت ’’اینٹرسٹمنٹ‘‘ اور ’’کنسائنمنٹ‘‘ پالیسیوں کے ذریعے زیورات کی برآمدکاسلسلہ دوبارہ شروع ہوجائیگا،جس کی توثیق وفاقی کابینہ کرے گی۔

اجلاس میں وزارتِ دفاعی پیداوار، وزارتِ داخلہ اور الیکشن کمیشن کیلئے مختلف ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس میں پاکستان نیوی کے تحت پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے لیے2.500 ارب روپے،پاکستان رینجرز (پنجاب) کے ہیڈکوارٹرز کے لیے ہیلی کاپٹر کی مرمت کے پرزہ جات کی خریداری کے لیے 21.500 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے لیے متحدہ عرب امارات میں اس کی بیرونی تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے استعمال شدہ اوور ڈرافٹ فیسیلٹی کی ادائیگی کے لیے 45ملین درہم کے مساوی رقم ،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مقامی حکومت کے انتخابات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے455.984 ملین روپے،وزارت خزانہ کی جانب سے پاکستان منٹ رہائشی کالونی میں انفرادی بجلی میٹرز کی تنصیب کے لیے 112.118ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ملک میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے رجحان پر تفصیلی جائزہ لیاگیا۔

وزارتِ منصوبہ بندی کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمدنے بریفنگ میں بتایاکہ حالیہ سیلاب سے زرعی زمین، مویشیوں کے متاثر ہونے کے باعث ستمبر 2025 میں مہنگائی 5.6 فیصد تک پہنچ گئی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے متعلقہ وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ مہنگائی پر قابو پائیں اور عوام کی خریداری کی قوت کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔

Scroll to Top