پیرس: فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی نے منگل کے روز لیبیا سے انتخابی فنڈز حاصل کرنے کی سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا کاٹنے کے لیے خود کو پیرس کی مشہور لا سانتے جیل میں حکام کے حوالے کر دیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق 70 سالہ سابق صدر اپنی اہلیہ کارلا برونی کا ہاتھ تھامے پیرس میں اپنے گھر سے جیل کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ان کے درجنوں حامیوں نے جمع ہو کر ان کے حق میں نعرے لگائے۔ گزشتہ ماہ سزا سنائے جانے کے بعد نکولس سرکوزی دوسری عالمی جنگ کے بعد قید ہونے والے پہلے فرانسیسی رہنما بن گئے ہیں۔ اس سے قبل صرف مارشل فلپ پیٹان کو نازیوں کے ساتھ تعاون کے الزام میں جیل کی سزا ہوئی تھی۔
جیل پہنچنے کے کچھ دیر بعد سرکوزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک طویل پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں “انتقام اور نفرت کا نشانہ” بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکوزی کو ممکنہ طور پر لا سانتے جیل کے ایک علیحدہ یونٹ میں رکھا جائے گا، جہاں قیدیوں کو انفرادی کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں بیرونی سرگرمیوں کے دوران بھی دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جائے گا۔
لا سانتے جیل کی کوٹھڑیاں 9 سے 12 مربع میٹر (100 سے 130 مربع فٹ) کے درمیان ہیں، جن میں نجی غسل خانے کی سہولت موجود ہے۔ سرکوزی کو ماہانہ 14 یورو فیس کے عوض ٹیلی ویژن اور ٹیلی فون لائن کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیرس کے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات کی چوری، فرانس میں تشویش کی لہردوڑ گئی
فرانسیسی اخبار لو فگارو سے گفتگو کرتے ہوئے نکولس سرکوزی نے بتایا کہ وہ اپنی قید کے ابتدائی دنوں کے لیے تین کتابیں ساتھ لے جا رہے ہیں، جن میں الیگزانڈر دوما کا مشہور ناول ’دی کاؤنٹ آف مونٹے کرسٹو‘ بھی شامل ہے۔ یہ ناول ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ناحق قید ہوتا ہے اور بعد میں اپنے ساتھ دھوکا کرنے والوں سے بدلہ لینے کا منصوبہ بناتا ہے۔




