پیرس کے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات کی چوری، فرانس میں تشویش کی لہردوڑ گئی

 

پیرس کا مشہور زمانہ لوور میوزیم پیر کے روز بند رہا کیونکہ پولیس دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میوزیم میں ہونے والی ایک حیران کن چوری کی تحقیقات میں مصروف ہے، جس میں فرانس کے انمول شاہی زیورات چرا لیے گئے۔

پولیس کے مطابق، چور پاور ٹولز کے ساتھ دن دہاڑے میوزیم میں داخل ہوئے اور انتہائی قیمتی زیورات چرا کر اسکوٹروں پر فرار ہوگئے۔ یہ واقعہ صبح 9 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا، جب چار مشتبہ افراد ایک گاڑی پر نصب مکینیکل لفٹ کے ذریعے دریائے سین کے قریب واقع گیلری ڈی اپولون (Gallery of Apollo) کی بالکونی تک پہنچے۔ منظر کی تصاویر میں ایک سیڑھی پہلی منزل کی کھڑکی تک جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

دو چوروں نے کھڑکی کا شیشہ کاٹ کر اندر داخل ہوکر سیکیورٹی گارڈز کو دھمکایا، جس کے بعد عملے اور سیاحوں کو فوری طور پر عمارت سے باہر نکالا گیا۔ انہوں نے دو ڈسپلے کیسز کے شیشے کاٹ کر آٹھ قیمتی زیورات چرا لیے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق، جس حصے میں چوری ہوئی، اس کے ایک تہائی کمروں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چور محض چار منٹ تک اندر موجود رہے اور 9 بج کر 38 منٹ پر دو اسکوٹروں پر فرار ہوگئے۔

فرانسیسی سینیٹ کی فنانس کمیٹی کی رکن ناتالی گولیٹ نے اس واقعے کو ’’فرانس کے لیے ایک تکلیف دہ لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب مایوس اور ناراض ہیں، اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ سب اتنی آسانی سے کیسے ہو گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گیلری کا الارم سسٹم کچھ عرصے سے خراب تھا، تاہم تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو گا کہ آیا وہ غیر فعال تھا یا نہیں۔

وزارتِ ثقافت کے مطابق، میوزیم کا مرکزی الارم سسٹم بجا، عملے نے فوری طور پر سیکیورٹی فورسز سے رابطہ کیا اور زائرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ چوروں نے اپنی گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی، تاہم ایک عملے کے رکن کی بروقت مداخلت سے آگ لگنے سے بچ گئی۔

فرانسیسی وزیر ثقافت راشیدہ داتی نے بتایا کہ فوٹیج میں نقاب پوش چوروں کو ’’پرسکون انداز‘‘ میں زیورات کے کیس توڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چور ’’ماہر‘‘ اور ’’منصوبہ بند‘‘ انداز میں واردات کر کے دو اسکوٹروں پر فرار ہوگئے۔ تقریباً 60 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ واردات کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کے احکامات پر انجام دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالی بہتری کا اعتراف کیا 

چوری ہونے والے زیورات میں امپریس یوجینی کا تاج اور بروچ، امپریس میری لوئیز کا زمردی ہار اور بالیاں، کوئن میری امالی اور کوئن ہورٹنس کے نیلم سے جڑے زیورات اور ایک ’’ریلیکوری بروچ‘‘ شامل ہیں۔ ان میں ہزاروں قیمتی ہیرے اور نادر جواہرات جڑے ہوئے ہیں۔ دورانِ فرار امپریس یوجینی کا تاج راستے سے ٹوٹا ہوا ملا جو ممکنہ طور پر گرتے وقت زخمی ہوا۔

وزیر داخلہ لوراں نیونیئز نے زیورات کو ’’ناقابلِ قیمت‘‘ اور ’’غیر معمولی ثقافتی ورثہ‘‘ قرار دیا۔ آرٹ ریکوری انٹرنیشنل کے سربراہ کرس مارینیلو نے کہا کہ ’’چور ممکنہ طور پر زیورات کو ٹکڑوں میں توڑ کر قیمتی دھات پگھلا دیں گے اور قیمتی پتھروں کو الگ فروخت کریں گے تاکہ شواہد مٹ جائیں۔‘‘

صدر ایمانویل میکرون نے اس چوری کو ’’تاریخی ورثے پر حملہ‘‘ قرار دیا، جبکہ نیشنل ریلی پارٹی کے جوردان بارڈیلا نے اسے ’’ناقابلِ برداشت تذلیل‘‘ کہا۔ میرین لی پین نے کہا کہ ’’یہ فرانسیسی روح پر زخم ہے‘‘۔

میوزیم انتظامیہ کے مطابق، پہلے سے بک کیے گئے ٹکٹ رکھنے والے سیاحوں کو رقم واپس کر دی جائے گی۔ پیر کے روز میوزیم کے گرد پولیس اور سیکیورٹی عملہ موجود رہا اور داخلی دروازوں پر دھات کے گیٹ لگا دیے گئے۔ لوور میوزیم عام طور پر منگل کو بند رہتا ہے، لہٰذا امکان ہے کہ اسے بدھ سے پہلے دوبارہ نہ کھولا جائے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوور میوزیم انتظامیہ نے فرانسیسی حکومت سے عمارت کی تزئین و آرائش اور سیکیورٹی اپ گریڈیشن کے لیے مدد طلب کی تھی۔ صدر میکرون کے ’’نیو رینیسانس‘‘ منصوبے کے تحت میوزیم کی از سر نو تعمیر پر 700 سے 800 ملین یورو خرچ ہوں گے، جس میں حفاظتی اقدامات کا خاص خیال رکھا جائے گا۔

Scroll to Top