اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل): سعودی عرب میں نوکری کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے خوشخبری ہے، مختلف شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع کھل گئے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست ملک ہےاور ہر سال لاکھوں پاکستانیوں کو تعلیم، ملازمت اور پروفیشنل مواقع فراہم کرتا ہے۔
سعودی حکومت کے وژن 2030 کے تحت ویزا پالیسیوں کو انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے خاص طور پر ہنر مند مزدوروں اور پروفیشنلز کے لیے نئی سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چئیرمین رانا مشہود احمد خان کے مطابق، سعودی عرب کو پاکستان سے تقریباً 12 لاکھ افراد مختلف شعبوں میں درکار ہیں جن میں وائٹ کالر، بلیو کالر اور گرے کالر نوکریاں شامل ہیں۔
وائٹ کالر ملازمتیں زیادہ تر ذہنی اور دفتری نوعیت کی ہوتی ہیں جیسے ڈاکٹر، وکیل، اکاؤنٹنٹ، اور سافٹ ویئر انجینئر۔ بلیو کالر نوکریاں جسمانی محنت پر مبنی ہوتی ہیں جن میں مکینک، الیکٹریشن، پلمبر اور فیکٹری ورکر شامل ہیں، جبکہ گرے کالر نوکریاں ان دونوں کا امتزاج ہیں جیسے آئی ٹی ٹیکنیشن، سیکیورٹی گارڈ، اور کسٹمر سروس ایجنٹ۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہنر کی تصدیق کے لیے اسکل ویریفیکیشن پروگرام (SVP) کا معاہدہ 2021 سے نافذ العمل ہے۔ اس پروگرام کے تحت سعودی عرب جانے والے پاکستانی کارکنوں کی مہارت کی تصدیق کی جاتی ہے تاکہ لیبر مارکیٹ کو منظم کیا جا سکے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اس پروگرام کو کامیابی سے چلا رہا ہے۔ ملک بھر میں 40 سے زائد ٹیسٹ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں 80 سے زائد ٹریڈز میں امیدواروں کی مہارت جانچی جاتی ہے۔ اب تک 3 لاکھ سے زائد افراد کا اسیسمنٹ مکمل ہو چکا ہے، جن میں سے 80 فیصد امیدوار کامیاب ہوئے۔
سال 2025 میں خاص طور پر جولائی اور اگست کے دوران 80 ہزار سے زائد امیدواروں نے ٹیسٹ پاس کیا، جو پروگرام کی مقبولیت اور کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ NAVTTC مستقبل میں مزید سینٹرز اور ٹریڈز شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے مستفید ہو سکیں۔ ایس وی پی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ بھی نہایت آسان ہے۔ امیدوار اپنی پروفائل آن لائن بنا کر ٹیسٹ کی تاریخ بُک کرتے ہیں، 50 ڈالر فیس ادا کرتے ہیں، اور مقررہ تاریخ پر ٹیسٹ دیتے ہیں۔ کامیاب امیدواروں کو سرٹیفکیٹ صرف 24 گھنٹے کے اندر جاری کر دیا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستانیوں کے لیے موجود نوکریوں میں الیکٹریشن، پلمبر، مکینک، بلڈنگ ورک، ڈرائیور، شیف، باربر، کلینر اور دیگر متعدد شعبے شامل ہیں۔ یہ پروگرام نہ صرف پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھول رہا ہے بلکہ ملک کی معیشت کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تاکائچی جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب، خواتین کے لیے حوصلے کی علامت
سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کیونکہ وہاں ٹیکس فری انکم، کم خرچ زندگی اور ایک بڑی پاکستانی کمیونٹی موجود ہے جو نئی آنے والوں کے لیے سپورٹ کا ذریعہ بنتی ہے۔




