تاکائچی جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب، خواتین کے لیے حوصلے کی علامت

(کشمیر ڈیجیٹل) جاپان کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر تاکائچی کا انتخاب ملک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔ اگرچہ جاپان کی کئی نسوانی کارکنان ان کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتیں، تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وہ نوجوان جاپانی لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل بن سکتی ہیں ، ایک مثال کہ ملک کی قیادت کے لیے مرد ہونا ضروری نہیں۔

مشہور ماہر اقتصادیات کیتھی مٹسوئی، جنہوں نے ’’ویمنامکس‘‘ کی اصطلاح متعارف کرائی، کہتی ہیں کہ ’’آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ یہ جملہ جاپان جیسے ملک کے لیے نہایت معنی خیز ہے، جہاں اکثر وزرائے اعظم اور قانون ساز سیاست دانوں کے بیٹے، پوتے یا پڑپوتے ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں تاکائچی کا اپنی محنت، عزم اور قابلیت کے بل بوتے پر سیاسی سیڑھی چڑھنا قابلِ احترام سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بات عام طور پر معروف ہے کہ تاکائچی کے والدین نہیں چاہتے تھے کہ وہ یونیورسٹی جائیں کیونکہ وہ لڑکی تھیں۔ لیکن نوجوان تاکائچی نے اپنے تعلیمی اخراجات خود پورے کیے اور اپنی محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی یہ جدوجہد آج کی جاپانی لڑکیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی رکاوٹ منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

تاکائچی نے اپنی ذاتی زندگی کے چیلنجز کے بارے میں بھی کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حیاتیاتی طور پر اپنی اولاد پیدا نہیں کر سکیں، لیکن اپنے شوہر کی سابقہ شادی سے تین بچوں کی پرورش میں بھرپور کردار ادا کیا۔ حالیہ عرصے میں وہ اپنے شوہر کی دیکھ بھال بھی کر رہی ہیں، جنہیں فالج کا حملہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد کولمبیا کا ردعمل، صدر گستاوو پیٹرو نے اہم قدم اٹھا لیا

یہ ذاتی تجربات نہ صرف ان کی شخصیت کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوئے بلکہ امکان ہے کہ مستقبل میں ان کے سیاسی فیصلوں پر بھی ان کا گہرا اثر دکھائی دے۔ جاپان جیسے معاشرے میں، جہاں خواتین کی قیادت اب بھی ایک غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے، تاکائچی کی کامیابی اس تصور کو توڑنے کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔

Scroll to Top