ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد کولمبیا کا ردعمل، صدر گستاوو پیٹرو نے اہم قدم اٹھا لیا

(کشمیر ڈیجیٹل) کولمبیا نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے بعد ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے امریکا میں تعینات اپنے سفیر ڈینیئل گارسیا-پینا کو فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان اور نئی تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’منشیات کا غیر قانونی لیڈر‘‘ قرار دیا۔ ان الفاظ نے کولمبیا میں شدید ردعمل کو جنم دیا، جہاں حکومت نے انہیں ’’توہین آمیز‘‘ اور ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔

کولمبیا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ ’’صدر پیٹرو کی ہدایت پر امریکا میں تعینات کولمبیا کے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔ وہ اس وقت بوگوٹا میں موجود ہیں، اور حکومت آنے والے چند گھنٹوں میں مزید فیصلوں کا اعلان کرے گی۔‘‘

دوسری جانب صدر ٹرمپ کے الزامات اور معاشی پابندیوں کے اعلان کے اثرات فوری طور پر کولمبیا کی معیشت پر پڑے۔ پیر کے روز کولمبیا کی کرنسی 1.4 فیصد کمزور ہو کر 3,889 پیسوز فی امریکی ڈالر پر آ گئی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔

کولمبین-امریکن چیمبر آف کامرس کے مطابق، امریکا کولمبیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ کولمبیا کی 35 فیصد برآمدات امریکا کو جاتی ہیں جبکہ 70 فیصد درآمدات امریکا سے آتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایسی اشیا شامل ہیں جو کولمبیا میں دستیاب نہیں۔ اس تناظر میں کشیدگی دونوں ممالک کے اقتصادی استحکام پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کولمبیا کے لیے تمام مالی امداد بند کرنے کا اعلان بھی کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس نوعیت کی امداد کی بات کر رہے تھے۔ ماضی میں کولمبیا یو ایس ایڈ کے تحت مغربی نصف کرہ میں سب سے زیادہ امداد حاصل کرنے والے ممالک میں شامل تھا، مگر رواں برس یہ امداد اچانک روک دی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون تک پھیل سکتے ہیں۔ صورتحال اگر برقرار رہی تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بگاڑ کے خدشات بڑھ جائیں گے۔

Scroll to Top