جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل)ہٹیاں بالا اور گردونواح میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں خود ساختہ اضافہ عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود کرایوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی، جبکہ ڈرائیور حضرات اپنی من مانی کرتے ہوئے مسافروں سے زائد کرائے وصول کر رہے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے جب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہےعوام کو توقع تھی کہ کرایوں میں بھی کمی کی جائے گی، مگر تاحال ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹویوٹا ہائی ایس گاڑیوں میں چودہ سیٹوں کی قانونی اجازت ہے، تاہم ڈرائیور حضرات قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھارہ یا اس سے زائد سواریاں بٹھاتے ہیں۔ اس غیر قانونی عمل سے نہ صرف مسافروں کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ دورانِ سفر حادثات کے خطرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر اوقات ان گاڑیوں میں کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
عوامی حلقوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ کوسٹر گاڑیوں میں فولڈنگ سیٹیں لگا کر اضافی سواریاں بٹھائی جا رہی ہیں جس سے مسافروں کے لیے جگہ مزید تنگ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ٹریفک قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ضلع بھر کے متعدد ٹرانسپورٹ اڈوں کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں، اڈوں پر سایہ دار جگہوں اور پینے کے پانی کا بھی فقدان ہے، جبکہ بیشتر اڈوں پر واش روم جیسی بنیادی سہولت موجود نہیں۔ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے رابطہ کرنے پر حکام کا کہنا تھا کہ کرایوں میں اضافے کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اگر کسی ڈرائیور یا اڈہ انتظامیہ کی جانب سے خود ساختہ اضافہ یا غیر قانونی سواریاں بٹھانے کا عمل جاری ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کیلئے خوشخبری،سونا اور چاندی دونوں سستے ہوگئے
عوامی نمائندوں، سماجی تنظیموں اور مسافروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ساتھ ہی ایسے ڈرائیوروں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے جو عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں تاکہ عام شہریوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔




