کراچی: سندھ کے علاقے ماری غازیج سے تیل و گیس کے نئے ذخائر کامیابی سے دریافت کر لیے گئے ہیں۔ کمپنی ماری انرجیز لمیٹڈ نے اس اہم پیش رفت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ کو بذریعہ خط آگاہ کیا ہے۔
خط کے مطابق ماری غازیج سی ایف بی ون کنویں کی کھدائی 12 ستمبر 2025 کو شروع کی گئی تھی۔ کنویں کی گہرائی 1,195 میٹر تک پہنچنے کے بعد زمین کی اُس پرت تک رسائی حاصل کی گئی جہاں سے خام تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کی دریافت ممکن ہوئی۔ کمپنی کے مطابق کنویں سے یومیہ 305 بیرل خام تیل اور 3 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔
ماری انرجیز کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کنویں کا ویل ہیڈ فلو پریشر 225 پاؤنڈ فی مربع انچ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ کنواں ماری انرجیز لمیٹڈ کی سو فیصد ملکیت میں ہے، جو توانائی کے شعبے میں ملک کی ایک بڑی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔
ترجمان ماری انرجیز کے مطابق سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی میں واقع ماری غازیج سی ایف بی ون ایکسپلوریشن ویل سے تیل و گیس کے ذخائر کی کامیاب دریافت ہوئی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ دریافت ماری غازیج بلاک میں تیل کی دریافت کا دوسرا کنواں ہے، جو ملک میں توانائی کے خود کفیل مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماری انرجیز لمیٹڈ کی یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے بلکہ اس سے تیل و گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ اس دریافت کے نتیجے میں پاکستان کو توانائی کے شعبے میں استحکام حاصل کرنے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت پر پابندی کی منظوری دے دی، سمری وفاق کو ارسال
ملکی سطح پر تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور پیداوار میں ماری انرجیز کی یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔




