باغ (کشمیر ڈیجیٹل) 15 اکتوبر کو بینائی سے محروم افراد کے خصوصی دن کے موقع پر باغ میں کالج چوک سے احاطہ پریس کلب تک ایک آگاہی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں بینائی سے محروم افراد کے ہمراہ سول سوسائٹی کے نمائندگان، طلباء اور شہریوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔
شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بینائی سے محروم افراد کے لیے خصوصی تحریریں درج تھیں، جن میں شعور، مساوی حقوق اور معاشرتی قبولیت کے پیغامات نمایاں تھے۔ ریلی کا مقصد ان افراد کو درپیش مشکلات کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
دنیا بھر میں ہر سال 15 اکتوبر کو “بینائی سے محروم افراد کا عالمی دن” یا “سفید چھڑی کا دن” منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام 1964ء میں منانے کا آغاز ہوا، جب پہلی مرتبہ سفید چھڑی کو بصارت سے محروم افراد کے لیے امید، رہنمائی اور خودمختاری کی علامت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے سیمینارز، واکس اور آگاہی مہمات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ باور کرانا ہے کہ بصارت سے محروم افراد بھی معاشرے کے دیگر افراد کی طرح باصلاحیت اور ذمہ دار شہری ہیں، جنہیں صرف تھوڑی سی توجہ اور مواقع کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
“بیٹن” کہلانے والی خاکی چھڑی جس طرح ایک ذمہ داری کی علامت سمجھی جاتی ہے، اسی طرح سفید چھڑی بھی بینائی سے محروم افراد کے لیے خود انحصاری اور شناخت کی علامت ہے۔ یہ چھڑی دوسروں کو یہ اشارہ دیتی ہے کہ سامنے والا شخص بصارت سے محروم ہے اور اسے مدد، احترام اور راستہ دینے کی ضرورت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ افراد بصارت سے محروم ہیں، اور ماہرین کے مطابق 2050ء تک یہ تعداد بڑھ کر 11 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں تقریباً ایک کروڑ 17 لاکھ، مشرقی ایشیا میں 60 لاکھ 20 ہزار، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں 30 لاکھ 50 ہزار افراد آنکھوں کے امراض میں مبتلا ہیں۔
پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ افراد مکمل طور پر بینائی سے محروم ہیں، جبکہ جزوی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 60 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس ملک میں اندھے پن کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے، کیونکہ اس سے آنکھ کے عدسے پر اثر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں موتیا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں بینائی سے محروم افراد کو تربیت دینے اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے والے ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان افراد کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات پیش آتی ہیں، جبکہ چند نجی تنظیمیں محدود پیمانے پر ان کی مدد کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا چین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور، وجہ سامنے آگئی
دنیا بھر میں اس دن کے موقع پر بینائی سے محروم افراد کے سماجی مسائل، تعلیم، صحت اور روزگار سے متعلق گفتگو کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان افراد کی سماجی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو اجتماعی ذمہ داری سمجھا جائے۔




