وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان ایک طرف دھمکیاں دیتے ہیں اور دوسری جانب مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ جو لوگ دھمکانے کیساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ پہلے اپنی دھمکیوں پر عمل کر کےدکھائیں، پھر مذاکرات بھی کرلیں گے ۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اگر کسی ملک پر حملہ کیا جائے تو اسے جواب دینے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان نے کسی افغان شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین مختلف دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خون کا حساب لینے کیلئے افغان سرزمین میں داخل ہونا پڑے تووہ ہمارا حق ہے،خواجہ آصف
خواجہ آصف نے افغان وزیرِ خارجہ امیر متقی کے بیانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں پر کون یقین کرے گا ۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت وفاق کی ذمہ داری ہے ، صوبوں کی نہیں ۔ افغان مہاجرین کے انخلاء کا معاملہ بھی وفاقی دائرہ اختیار میں آتا ہے اور جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ، انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت نےدوبارہ کوئی حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوائی ہوگی، خواجہ آصف
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کو اسی طرح محفوظ بنائے گا جیسے دنیا کے دیگر خودمختار ممالک کرتے ہیں ۔ ان کے مطابق قومی ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ جو افغان پناہ گزین یہاں مقیم ہیں، انہیں واپس اپنے وطن جانا چاہیے ۔




