وینیزویلا کی جمہوریت پسند اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچادو نے 2025 کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے کے بعد یہ اعزاز وینیزویلا کے عوام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کر دیا۔
ماریا کورینا مچادو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ انعام وینیزویلا کے عوام کی جدوجہد کا اعتراف ہے اور آزادی کے حصول کے لیے ان کی مہم کے حتمی مرحلے تک پہنچنے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
This recognition of the struggle of all Venezuelans is a boost to conclude our task: to conquer Freedom.
We are on the threshold of victory and today, more than ever, we count on President Trump, the people of the United States, the peoples of Latin America, and the democratic…
— María Corina Machado (@MariaCorinaYA) October 10, 2025
ماریا کورینا مچادو نے کہا کہ وینیزویلا آزادی کی دہلیز پر ہے اور اس جدوجہد میں صدر ٹرمپ، امریکا کے عوام، لاطینی امریکا کی اقوام اور دنیا کی جمہوری ریاستوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، جو آزادی اور جمہوریت کے قیام کے لیے حقیقی اتحادی ہیں۔انہوں نے نوبیل امن انعام وینیزویلا کے مصیبت زدہ عوام اور امریکی صدر ٹرمپ کے نام کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں نوبیل انعام کمیٹی کے چیئرمین یوئرگن واٹنے فریدنس نے گزشتہ روز مچادو کو نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ انہیں وینیزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے جمہوریت کی جانب پرامن منتقلی کی کوششوں کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔رواں سال ٹائم میگزین کی ’دنیا کی 100 بااثر شخصیات‘ میں شامل مچادو کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ وہ استقامت، ثابت قدمی اور حب الوطنی کی علامت ہیں۔
ایوارڈ کے ساتھ ایک سونے کا تمغہ، ایک ڈپلومہ اور 12 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم شامل ہے۔ نوبیل امن انعام کی تقریب 10 دسمبر کو اوسلو میں منعقد ہوگی، جو انعام کے بانی الفریڈ نوبیل کی 1896 میں وفات کی برسی کا دن ہے۔ماریا کورینا مچادو نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی وینیزویلا کی پہلی اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والی چھٹی شخصیت ہیں۔ ان کے تین بالغ بچے حفاظتی وجوہات کے باعث بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مچادو کو ایوارڈ ملنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ وینیزویلا کے عوام کی آزاد اور منصفانہ انتخابات کی خواہشات کا عالمی اعتراف ہے۔ ایوارڈ کمیٹی کے سربراہ یوئرگن واٹنے فریدنس نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ وینیزویلا کی اپوزیشن کو نئی توانائی دے گا اور پوری اپوزیشن پرامن طور پر آمریت سے جمہوریت کی منتقلی کے لیے اپنی جدوجہد نئے عزم کے ساتھ جاری رکھے گی۔
گزشتہ سال یہ باوقار انعام جاپان کی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف سرگرم تنظیم ’نیہون ہیدانکیو‘ کو دیا گیا تھا، جو ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی دھماکوں سے بچ جانے والوں کی عوامی تحریک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے فائنل الیون کا اعلان
ابھی یہ واضح نہیں کہ ماریا کورینا مچادو ایوارڈ تقریب میں شرکت کر سکیں گی یا نہیں۔ اگر وہ شریک نہ ہو سکیں تو وہ اُن شخصیات میں شامل ہو جائیں گی جنہیں نوبیل امن انعام ملنے کے باوجود تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی، جن میں 1975 کے آندرے سخاروف، 1983 کے لیخ ویلسا اور 1991 کی آنگ سان سوچی شامل ہیں۔




