نئی دہلی:بھارتی سپریم کورٹ آج جمعہ کومقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحالی کی درخواست کی سماعت کرے گی ۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے بی جے پی کی بھارتی حکومت کومقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔
مودی حکومت نے5 اگست 2019 کو دفعہ 370کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیاتھا ۔
گزشتہ سماعت میں سینئر ایڈووکیٹ گوپال سنکرانارائنن نے یہ معاملہ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس بی آر گوائی کے سامنے اٹھایا ۔
انہوں نے عدالت کی طرف مبذول کرائی کہ یہ مقدمہ ایک متفرق درخواست کے طورپر سماعت کیلئے مقرر کیاگیا ہے ۔
دسمبر 2023میں ہندوسدتان کی سپریم کورٹ نے دفعہ370کی منسوخی کے مودی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھاتھا ۔
تاہم عدالت نے اس وقت جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 جس کے تحت مقبوضہ علاقے کو دو یونین ٹیریٹریز جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا تھا کی آئینی حیثیت سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا ۔
یہ درخواست کالج کے ایک پروفیسر ظہور احمد بٹ اور سماجی کارکن خورشید احمد ملک کی جانب سے دائر کی گئی ہے ۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ بھارتی حکومت نے عدالت کی یقین دہانیوں کے باوجود جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں کیا ہے ۔
درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ اب جبکہ مقبوضہ علاقے میں اسمبلی انتخابات چکے ہیں، لہذا جموں وکشمیر کے مکمل ریاستی درجے کی عدم بحالی نا بھارتی آئین کے وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے ۔
سپریم کوٹ نے دسمبر 2023 کے اپنے فیصلے میں حکومت کو جموںوکشمیر کی ریاستی حیثیت کی جلد از جلد بحالی کی ہدایت کی تھی تاہم کوئی وقت مقرر نہیں کیاتھا ۔
یہ درخواست اسی تناظر میں دائر کی گئی ہے تاکہ بھارتی حکومت پر جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے دبا ئو بڑھایا جا سکے ۔




