شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیرِ خزانہ اور وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ کو ایک خط لکھ کر پنجاب اور سندھ کی شوگر ملوں میں ایف بی آر کے ایس-ٹریک پورٹل کے بار بار بند ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پورٹل کی بندش سے چینی کی لفٹنگ بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ترسیل میں مشکلات، مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے نمائندے ملوں کے گیٹ پر لفٹنگ روک رہے ہیں جبکہ کئی مقامات پر پورٹل کے پاس ورڈز بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ پورٹل کو بلاک کر کے 8 بلین روپے سبسڈی والی درآمدی چینی فروخت کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جو کہ غیر قانونی اقدام ہے اور اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ بلاضرورت 200 ملین ڈالر مالیت کی سبسڈائزڈ چینی کی درآمد اور اس کی فروخت میں سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس سے مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ چینی کی لفٹنگ پر پابندی سے سپلائی متاثر ہوگی اور قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کا پہلا سپر مون معمول سے 6.6 فیصد بڑا اور 13 فیصد زیادہ روشن نظر آ رہا
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر کو فوری طور پر ایس-ٹریک پورٹل بند کرنے سے روکا جائے تاکہ بحران سے بچا جا سکے۔




