واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر انہیں امن کا نوبل انعام نہ دیا گیا تو یہ امریکا کے لیے ایک بڑی توہین ہوگی۔
اعلیٰ فوجی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نوبل امن انعام ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، حالانکہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے انہوں نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو انہیں امن کا علمبردار تسلیم کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ نوبل انعام شاید کسی ایسے شخص کو دیا جائے جس نے کچھ نہیں کیا، لیکن انہوں نے حقیقی امن قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ “اگر مجھے نوبل امن انعام نہ ملا تو یہ امریکا کے لیے بڑی توہین ہوگی۔” امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر غزہ منصوبہ کامیاب رہا تو امریکا صرف آٹھ ماہ میں آٹھ جنگیں ختم کرنے میں کامیاب ہوگا، جو ایک غیرمعمولی کامیابی ہوگی۔
ٹرمپ نے امریکا کی جوہری طاقت کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کی سب سے بڑی اور جدید ایٹمی صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اگست میں روس کے قریب امریکی ایٹمی آبدوزیں تعینات کی گئیں، لیکن امریکا کسی بھی صورت ایٹمی جنگ نہیں چاہتا اور اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیل اور گیس کا ایک اور بڑا ذخیرہ دریافت




