نیپال میں پہلی بار وزیراعظم سوشل میڈیا ووٹنگ سے منتخب

(کشمیر ڈیجیٹل)دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک کا وزیراعظم ’’سوشل میڈیا‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے منتخب ہوا ہے۔ جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کو چیٹ ایپ ’ڈسکارڈ‘ کے ذریعہ عوامی ووٹنگ سے عبوری وزیراعظم منتخب کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نیپال میں شدید عوامی احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں صدر، وزیراعظم اور وزرا مستعفی ہو کر ملک سے باہر چلے گئے۔ اس کے بعد نوجوانوں کی جین زی تحریک نے ڈسکارڈ پر ’’یوتھ اگینسٹ کرپشن‘‘ کے نام سے سرور بنایا جو احتجاجی دور میں کمانڈ سینٹر بن گیا۔ اس سرور کے اراکین کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

10 ستمبر کو اسی پلیٹ فارم پر عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آن لائن ووٹنگ کرائی گئی جس میں 7713 افراد نے حصہ لیا۔ سشیلا کارکی کو 3833 ووٹ ملے جو تقریباً 50 فیصد بنتے ہیں، جب کہ ’’رینڈم نیپالی‘‘ کو 2022 (26 فیصد) اور ساگر ڈھاکل کو 1098 (14 فیصد) ووٹ ملے۔

انتخاب کے بعد سشیلا کارکی نے صدر رام چندر پاؤڈیل اور آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدی سے ملاقات کی اور اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے سال مارچ میں عام انتخابات کرائے جائیں گے اور 6 ماہ میں اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف حصوں میں آج سے شدید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری

دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈسکارڈ پر یہ سروے کس حیثیت سے کرایا گیا اور ووٹنگ میں شامل افراد کی شناخت کیا تھی، اس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ نیپالی میڈیا کے مطابق حلف برداری کے محض تین روز بعد ہی کارکی کے خلاف انہی نوجوانوں نے احتجاج شروع کر دیا جنہوں نے ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ من مانے فیصلے کر رہی ہیں اور کابینہ کی توسیع کے معاملے پر ان کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top