(کشمیر ڈیجیٹل) وادیِ لیپہ کا تاریخی واٹر چینل آج بھی اپنی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ چینل ڈوگرا دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اُس وقت سے مقبوضہ کرناہ ویلی کے کھیتوں کو مسلسل سیراب کر رہا ہے۔
سرحدی تقسیم، جنگوں اور مشکل حالات کے باوجود لیپہ کے عوام نے اس پانی کے بہاؤ کو کبھی رُکنے نہیں دیا۔ مقامی کسان اپنی زمینوں پر چاول کے بجائے مکئی کاشت کرتے ہیں تاکہ مقبوضہ علاقے کی زمینیں بنجر نہ ہوں۔
یہ واٹر چینل سنگلاخ پہاڑوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے باوجود مقامی آبادی کی محنت اور قربانی سے آج بھی رواں دواں ہے۔ آزاد کشمیر حکومت ہر سال اس کی دیکھ بھال پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے جبکہ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ حصوں کی مرمت بھی کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس واٹر چینل کا تقریباً 80 فیصد حصہ پختہ ہے تاہم 20 فیصد حصہ بھارتی چوکیوں کے سامنے واقع ہونے کی وجہ سے آج بھی کچا ہے، کیونکہ بھارتی فورسز وہاں تعمیر کی اجازت نہیں دیتیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا خواتین کرکٹرز کے لیے ڈومیسٹک کنٹریکٹ کا اعلان
یہ تاریخی چینل نہ صرف پانی کا ذریعہ ہے بلکہ سرحد کے دونوں طرف بچھڑے ہوئے دلوں کو جوڑنے والی ایک لازوال نشانی بھی سمجھا جاتا ہے۔




