اسلام آباد : جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس میں یاسین ملک سمیت دیگر کشمیری اسیران کیساتھ بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کشمیر میں 5 ستمبر بروز جمعتہ المبارک کو بھارت کیخلاف مکمل ہڑتال اور پرامن عوامی مظاہروں کااعلان کردیا گیا ہے۔
کانفرنس میں تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کو پھانسی کی سزا سے بچانے کے لئے مختلف تجاوزیر پر غور کیا گیا۔
اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام ” سیو یاسین ملک ‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دو اطراف کی کشمیری قیادت، سول سوسائٹی،انسانی حقوق سے وابستہ اشخاص اور پاکستان کے نامور دانشور وں، صحافیوںو طلباء تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
کانفرنس کی صدارت جے کے ایل ایف کے وائس چیرمین سلیم ہارون نے کی جبکہ اس کے مہمان خصوصی آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر تھے۔
کانفرنس میں آزادکشمیرکے سابق وزرائے اعظم سردار عتیق خان، راجہ فاروق حید ر،امیر جے آئی ڈاکٹر مشتاق احمد، عبدالرشید ترابی ، فرحت اللہ بابر، سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد، چوہدری یاسین ،آمنہ مسعود جنجوعہ ، یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک ،سینئر صحافی حامد میر ،افضل بٹ ، غلام محمد صفی ، محمود احمد ساغر ،محمدفاروق رحمانی ،حریت کانفرنس کے دیگر رہنماء ،سپریم کورٹ کے وکیل انیس جیلانی ،نذیر گیلانی اور دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔
کانفرنس کے آغاز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈارنے یاسین ملک کے خلاف بھارت کی جانب بنائے جعلی مقدمات کی تفصیل بیان کی جبکہ جے کے ایل کے وائس چیرمین سلیم ہارون نے کانفرنس میں شریک کا خیرمقدم کرنے کے علاوہ کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے
سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے یاسین ملک کے حوالے کانفرنس میں اپنی شرکت کو ایک اعزاز قرار دیا انہوں نے کہا کہ وہ یاسین ملک کو بچانے اور کشمیر یوں کی جدوجہد کے حوالے سے ان کے لئے جو زمہ داری ہوگی وہ اس کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
سابق کنوینئر محمود احمد ساغر نے کہا کہ یاسین ملک تک رسائی کے لئے راستے تلاش کرنے چائیے ،یاسین ملک کو مقبول بٹ شہید کی طرح فروخت نہ کیا جائے،یاسین ملک سے ملاقات کے لئے ایک گروپ تشکیل دیا جائے۔
پی پی پی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پانچ نکاتی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کے خلاف مقدمات کی تفصیلات ایک کتابچہ کی صورت میں شائع کرائی جائے اور دنیا بھر میں اس کو اجاگر کیا جائے تاکہ عالمی برادری اس بات سے آگاہ ہو کہ یاسین ملک کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے ۔
دوسرادنیا بھر میں جہاں بھی کشمیری اور پاکستانی آبادہیں وہاں پر اپنے منتخب نمائندوں کو یاسین ملک کی رہائی کے لئے خطوط ارسال کریں ،تیسرا یاسین ملک کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں ہمیں بھی اپنے موقف کو اس کے مطابق دیکھنا ہوگا کیونکہ کشمیر ،کشمیریوں کا ہے۔
چوتھا انسانی حقوق کے اداروں سے اس بارے میں رابطے کئے جائیں ،پانچواں جب ہم مودی کی پالیسیوں کے خلاف بات کرتے ہیں تو اس سے پہلے اپنے ملک کے معاملات کو بھی درست کرنے ہونگے ،
پی پی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین نے فرحت اللہ بابر کے تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے پارلیمانی ممبران ،انسانی حقو ق کے اداروں سے رابطے کرکے یاسین ملک کی رہائی کے کئے کوششیں تیز کی جائیں۔
سپریم کورٹ کے وکیل انیس جیلانی نے یاسین ملک کے خلاف بھارتی عدالتوں میں مقدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک پہلے موبالائزیشن کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ایک جامع اور موثر سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا جائے۔
کشمیر انٹرنیشنل ریلیشنز کے سربراہ الطاف احمد وانی نے کہا کہ ہمیں امن پسند لیڈر کے طور یاسین ملک کو دنیا میں پیش کرنا چاہیے انہوں نے بھی یاسین ملک کے خلاف مقدمات کو دستاویزی شکل دینے کی تجویز پیش کی
ڈیفنس ہیومن رائٹس کی چیرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے یاسین ملک کو ایک دلیر اور بہادر لیڈر قراردیتے ہوئے کہاکہ ان کی رہائی کے لئے پاکستان کی طرف سے کچھ نہ کیا گیا
یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ عالمی برادری کشمیریوں پر ہونے والے جبر پر خاموش کیوں ہے؟ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ یاسین ملک کی رہائی کی مہم کیلئے کشمیری برادری کی مشکور ہوں، حریت رہنما کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔

سینئر صحافی حامد میرنے کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں شہید مقبول بٹ کی کتابوں پر عائد پابندی ختم کی جائے ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا میں کشمیر ی آپ کے ساتھ کھڑے ہوں تو حکومت آزاد کشمیر کو مقبول بٹ کی کتابوں پر عائد پر پابندی ختم کرے اس کے ساتھ ہی خود بخود تحریک شروع ہوجائے گی
کانفرنس کی سیر حاصل گفتگو کے بعد کانفرنس کے اختتام پر مندرجہ ذیل قراردادوں پر مبنی ”اسلام آباد اعلامیہ” اتفاق رائے کے ساتھ منظور کیا گیا۔
(1) کانفرنس وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم انتہا پسندی بھارتی حکومت کی جانب سے ریاستی عوام کے محبوب قومی رہنما ومحبوس چیئرمین جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک کو فرضی اور من گھڑت مقدمات کی پاداش میں سیاسی انتقام کا بدترین نشانہ بنائے جانے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
(2) شرکائے کانفرنس اقوام عالم بالخصوص انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے محمد یاسین ملک کے خلاف سیاسی عناد پر دائر فرضی مقدمات کی پاداش میں خصوصی عدالت کے ذریعے یکطرفہ اور غیر منصفانہ انداز میں سنائی جانے والی عمرقید کی سزا کو اب پھانسی میں تبدیل کرانے کی بھارتی حکومت کی کوششوں کا نوٹس لینے اور اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے کشمیری قوم کے اس عظیم آزادی پسند رہنما کی جان بچانے کی اپیل کرتے ہیں۔
(3) کانفرنس بھارت سے محبوس چیئرمین جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک اور عالمی شہرت یافتہ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار وجموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے بانی رہنما خرم پرویز سمیت دہلی تہاڑ جیل میں اسیر آزاد پسند سیاسی رہنمائوں بالخصوص سید شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار اور شاہد الاسلام بشمول خواتین رہنمائوں سیدہ آسیہ اندرانی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کے علاوہ بھارت کے مختلف جیلوں میں نظربند دیگر جملہ حریت پسندوں کو فوری اور غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کر تی ہے۔
(4) شرکائے کانفرنس یاسین ملک سمیت جملہ اسیران کے ساتھ بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سیز فائر لائن کے دونوں اطراف پوری ریاست جموں وکشمیر کے عوام سے 5 ستمبر بروز جمعتہ المبارک بھارت کے خلاف ایک روزہ مکمل ہڑتال اور یاسین ملک سمیت جملہ اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے پرامن عوامی مظاہروں کی اپیل کرتے ہیں۔
(5)کانفرنس میںسمندر پار ممالک بالخصوص یورپی ومغربی مہذب دنیا میں موجود مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی اور انسانی حقوق تنظیموں سے وابستہ کشمیری ڈائسپورا سے اپیل کی گئی کہ وہ اس موقع پر تمام تر سیاسی، جماعتی، نظریاتی، گروہی وذاتی اختلافات کو بالائے طارق رکھتے ہوئے سفارتی سطح پر پُراثر، منظم اور زوردار مہم کے ذریعے بااثر ممالک کے عوامی اور حکومتی نمائندوں کے علاوہ متعلقہ عالمی اداروں کو بھارت کی جانب سے محمد یاسین ملک کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے آگہی دے کر ان کی قیمتی جان بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے پر انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔ نیز29 اگست یاسین ملک ودیگر اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی پر احتجاجی مظاہروں سمیت دیگر تقریبات کا اہتمام کریں۔

(6) شرکائے کانفرنس نے یاسین ملک سمیت جملہ اسیران وطن کی جدوجہد مسلسل، ہمالیائی ہمت وحوصلے اور قومی غیرت کا مظاہرہ کرنے پر اور بھارتی ظلم وجبر اور ریشہ دوانیوں کے سامنے استقامت کے ساتھ کھڑا رہنے پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین جبکہ جملہ شہدائے جموں وکشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
(7)کانفرنسUnfettered Right of Self-Determinationکے اصولی مطالبے کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کی آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تقسیم کشمیر کے فارمولے کو مسترد کرتا ہے۔




