(کشمیر ڈیجیٹل) برسوں کا خواب اور نسلوں کی اُمید اب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والی شاہراہ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، جو استور کے قمری سے تاؤ بٹ آزاد کشمیر تک 19 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ راستہ جو کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا، اب پاک فوج کی مشینری کے شور میں ممکن ہو رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 کلومیٹر حصے کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ بقیہ حصے پر دن رات کام جاری ہے۔ دوسری جانب آزاد کشمیر سے بھی تعمیراتی رفتار تیز ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ اسی سال پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
یہ شاہراہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ محبت، تاریخ اور ثقافت کے بچھڑے رشتوں کو جوڑنے والا سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے سے راولپنڈی تک کا فاصلہ کم ہوگا، سیاحت کو فروغ ملے گا اور برف پوش پہاڑوں کے دامن میں نئی کہانیاں جنم لیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کامیاب دورۂ امریکہ، بھارت کا دہشتگردانہ چہرہ بے نقاب
مقامی لوگوں نے منصوبے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس راستے کے کھلنے سے صرف زمین نہیں جُڑے گی بلکہ دل بھی جُڑ جائیں گے۔




