تتاپانی (کشمیر ڈیجیٹل ) سدھنوتی،پونچھ اور کوٹلی کے سنگم پر واقع لاکھوں نفوس کی آبادی پر مشتمل تجارتی مرکز تتاپانی کوماضی اور حال کی حکومتوں کے اعلانات کے باوجود سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کادرجہ نہ دیا جا سکا ۔
شہریوں نے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق سے تتا پانی کو سب ڈویژن کا درجہ دے کر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ۔
کشمیر ڈیجیٹل کے نمائندے سخاوت سدوزئی کی رپورٹ کے مطابق تتاپانی سدھنوتی،پونچھ اور کوٹلی کے تین اضلاع کے سنگم پر واقع ہےجو لاکھوں نفوس کی آبادی پر مشتمل، ایک بڑا تجارتی مرکز اور خوبصورتی سیاحتی مقام بھی ہے لیکن سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر سے محروم ہے ۔
بے شمار حکومتوں سے مطالبے کے باوجودتتا پانی کو سب ڈویژن کا درجہ نہیں مل سکا ۔ تحصیل سے متعلق کام کاج کے سلسلے میں گھنٹوں سفر کرکے شہریوںکو کوٹلی جانا پڑتا ہے ۔
اسی حوالے سے انہوں نے کچھ شہریوں سے بات چیت کی ، شہریوں سے جب پوچھا گیا کہ حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث تتا پانی کو سب ڈویژن کا درجہ کیوں نہ مل سکا ؟
ایک تاجر نے کہا کہ تتا پانی کو آج سے 10سے 15سال قبل سب ڈویژن کا درجہ ملنا چاہیے تھا ، سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے 4نومبر 2020کو اس کا اعلان کیا تھا اور اُنہوں نے کہا تھا کہ جلدتتا پانی کو سب ڈویژن کا درجہ دیا جائے گا ۔
اُس وقت کے وزیر خزانہ نجیب نقی نے بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ خزانے سے وہ منظوری دیں گے جتنے بھی لوازمات ہیں وہ پورے کر یں گے۔ اُس کے بعد موجودہ صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مطالبہ پورا کرنے کا کہا تھا ۔
اُس کے بعد وزیر ہائر ایجوکیشن ملک ظفر نے بھی تتا پانی کو سب ڈویژن بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ سردار عبدالقیوم نیازی سابق وزیر اعظم جو ہمارے پڑوسی بھی ہیں ، اُنہوں نے بھی اعلان کررکھا تھا لیکن وہ بھی ناگزیر وجوعات کی وجہ سے تتا پانی کو سب ڈویژن کا درجہ نہ دے سکے ۔
اس علاقے کو سب ڈویژن کی اشد ضرورت ہے ۔ بہت بڑی آبادی ہے ۔ کئی سب ڈویژن تتا پانی سے چھوٹے علاقے پر بنی ہوئی ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ تتا پانی کو بھی سب ڈویژن کادرجہ دیا جائے ۔
ایک اور شہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نے قبل جو بھی حکومتیں آئیں سب سے تتا پانی کیلئے سب ڈویژن کے لئے وعدے کیے لیکن پورے نہیں کیے گئے ۔




