آزاد حکومت کو1 ارب 70 کروڑ کا منافع مگر سوشل پروٹیکشن پروگرام شروع ہونے کے امکانات معدوم

مظفرآباد(ذوالفقار علی ۔کشمیر ڈیجیٹل انویسٹی گیشن ٹیم)بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت کو گزشتہ مالی سال میں سوشل پروٹیکشن فنڈ پر ایک ارب 70 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔ لیکن سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مستحقین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ پروگرام رواں سال بھی شروع نہیں ہو سکے گا۔

آزاد کشمیر کی حکومت نے جولائی 2024 میں بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں سوشل پروٹیکشن فنڈ اکاؤنٹ قائم کیا، جس میں 10 ارب روپے جمع کرائے گئے۔ حکومت کی درخواست پر بینک آف آزاد جموں و کشمیر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک سال کے لیے مارکیٹ ٹریژری بلز خریدے، جس پر بینک حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال میں آزاد کشمیر کی حکومت کو ایک ارب 70 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

واضح رہے کہ مارچ 2024 میں آزاد کشمیر حکومت نے مالی طور پر کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ’’سوشل پروٹیکشن آف ولنریبل پاپولیشن آرڈیننس‘‘ جاری کیا، جسے 31 مئی 2024 کو قانون ساز اسمبلی نے باقاعدہ منظور بھی کر لیا۔ قانون کے تحت بیوہ، یتیم، طلاق یافتہ خواتین، معذور، معمر افراد اور خواجہ سرا مالی امداد کے اہل قرار دیے گئے ہیں۔

11 جولائی 2024 کو بینک آف آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے ایک اشتہار جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے 9 ارب روپے سوشل پروٹیکشن فنڈ میں جمع کرا دیے ہیں۔ اس کے بعد ایک ارب روپے زکوٰۃ منافع فنڈ سے جمع کرائے گئے۔

ماضی میں یہ فنڈ غلط استعمال ہوتا رہا، جیسے کہ بیوروکریٹس کے لیے قیمتی گاڑیاں خریدی گئیں، گاڑیوں کی مرمت کی گئی یا پھر سیاستدانوں کے علاج پر خرچ ہوتا رہا۔

بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں رقم جمع کرانے کے بعد آزاد کشمیر کی حکومت نے 12 اگست سے 31 اگست 2024 تک مستحقین سے درخواستیں طلب کیں۔ اس دوران ایک لاکھ 18 ہزار 825 افراد یا خاندانوں نے رجسٹریشن کرائی۔

20 دسمبر 2024 کو حکومت نے دعویٰ کیا کہ 18,161 خاندانوں یا افراد کو مالی امداد کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔

لیکن اس کے امکانات بہت کم ہیں کہ یہ پروگرام اس سال شروع ہو پائے گا۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امدادی رقم کی تقسیم کا فیصلہ سوشل پروٹیکشن بورڈ نے کرنا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم اس بورڈ کے چیئرمین ہیں، جبکہ وزیر خزانہ، وزیر سماجی بہبود، چیف سیکریٹری، سیکریٹری قانون، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری عشر و زکوٰۃ، سیکریٹری برائے ترقی خواتین، اکاؤنٹنٹ جنرل اور دو منتخب اراکینِ اسمبلی اس کے اراکین ہیں۔

قانون کے مطابق، بورڈ ہر سال 30 جون سے پہلے سالانہ بجٹ کی منظوری دے گا، لیکن تاحال بورڈ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی بجٹ منظور کیا گیا۔ اس وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ رواں مالی سال میں بھی اس پروگرام کا آغاز ممکن نہیں۔

اسی بورڈ نے یہ بھی طے کرنا ہے کہ ایک ضرورت مند خاندان یا فرد کو ماہانہ کتنی رقم دی جائے گی، لیکن ابھی تک یہ بھی طے نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاہم، آزاد کشمیر کے وزیراعظم یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فی خاندان یا فرد کو 20 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔

سوشل پروٹیکشن فنڈ پر رواں سال ایک ارب 70 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔ اگر ایک خاندان کو 20 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں تو سالانہ صرف 8,500 خاندان یا افراد اس رقم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ یہ تاخیر اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حکومت یا تو تمام 18 ہزار سے زائد اہل افراد کو امداد فراہم کرنے کے قابل نہیں ہو جاتی، یا مستحقین کی تعداد کم نہیں کر دی جاتی، یا امدادی رقم کو اتنا کم نہیں کر دیا جاتا کہ تمام مستحقین کو کچھ نہ کچھ دیا جا سکے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے آغاز کے بعد اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ ہر سال اتنا منافع حاصل ہونا ممکن نہیں جو تمام مستحقین کو مسلسل امداد دے سکے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر حکومت واقعی اس پروگرام کو جاری رکھنا چاہتی ہے، تو اسے سوشل پروٹیکشن فنڈ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر اس پروگرام کو جاری رکھنا مشکل ہوگا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیربیوروکریسی میں اُکھاڑ پچھاڑ، متعدد تبادلے،تعیناتیاں ، نوٹیفکیشن جاری

Scroll to Top